۲۶۴۶: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَاللَّیْثُ‘ عَنْ کَثِیْرِ ۱بْنِ فَرْقَدٍ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .
٢٦٤٦: عمرو بن حارث اور لیث نے کثیر بن فرقد سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ یہ ہیں وہ آثار متواترہ جو دباغت سے چمڑے کی طہارت کو ثابت کرتے ہیں۔ اس کا مفہوم بالکل واضح ہے۔ چنانچہ یہ عبداللہ بن عکیم (رض) کی روایت سے اولیٰ ہیں کیونکہ وہ ان آثار کے خلاف بات کی راہنمائی نہیں کرتی۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرلے کہ مردار کے چمڑوں کی دباغت کا مباح ہونا اور ان کی طہارت اس دباغت کے ذریعہ یہ مردار کی حرمت سے پہلے تھی۔ تو اس کے مخالف دلیل اور اس کی دلیل کہ یہ حکم مردار کی تحریم کے بعد اور اللہ تعالیٰ کی اس تحریم میں داخل نہیں ہے۔ مندرجہ روایت ہے۔