۲۶۴۷: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا ہِشَامُ بْنُ أَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ‘ عَنْ قَتَادَۃَ‘ عَنِ الْحَسَنِ‘ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَتَادَۃَ‘ عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَعَا بِقِرْبَۃٍ مِنْ عِنْدِ امْرَأَۃٍ فِیْہَا مَائٌ ‘ فَقَالَتْ : إِنَّہَا مَیْتَۃٌ .فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَدَبَغْتِیْہَا؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ .فَقَالَ : دِبَاغُہَا ذَکَاتُہَا) .فَقَدْ جَائَ تْ ھٰذِہِ الْآثَارُ مُتَوَاتِرَۃً فِیْ طُہُوْرِ جِلْدِ الْمَیْتَۃِ بِالدِّبَاغِ وَہِیَ ظَاہِرَۃُ الْمَعْنٰی .فَہِیَ أَوْلٰی مِنْ حَدِیْثِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُکَیْمٍ الَّذِیْ لَمْ یَدُلَّنَا عَلٰی خِلَافِ مَا جَائَ تْ بِہٖ ھٰذِہِ الْآثَارُ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : إِنَّ مَا کَانَ مِنْ اِبَاحَۃِ دِبَاغِ جُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ وَطَہَارَتِہَا بِذٰلِکَ الدِّبَاغِ‘ إِنَّمَا کَانَ قَبْلَ تَحْرِیْمِ الْمَیْتَۃِ‘ فَإِنَّ الْحُجَّۃَ عَلَیْہِ فِیْ ذٰلِکَ .وَالدَّلِیْلُ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ بَعْدَ تَحْرِیْمِ الْمَیْتَۃِ وَأَنَّ ھٰذَا کَانَ غَیْرَ دَاخِلٍ فِیْمَا حَرُمَ مِنْہَا أَنَّ ابْنَ أَبِیْ دَاوٗدَ .
٢٦٤٧: حارث بن قتادہ نے سلمہ بن محبق (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مشک منگوائی جو ایک عورت کے پاس تھی اس نے کہا یہ مردہ جانور کی کھال سے ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے اس کی دباغت کی ہے اس نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا دباغت اس کو پاک کردیتی ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی اللباس باب ٣٨‘ نمبر ٤١٢٥‘ نسائی فی الفرع والعتیرۃ باب ٢١۔ حاصل روایات :
یہ متواتر آثار و روایات میتہ کی کھال کے دباغت کے بعد پاک ہونے پر کھلے طور پر دلالت کر رہے ہیں یہ عبداللہ بن حکیم کی روایت سے اولیٰ تر ہیں جس میں دور تک ان آثار میں پائی جانے والی بات کے خلاف کوئی بات نہیں پائی جاتی۔
ایک اشکال :
مردار کی کھال کا دباغت سے پاک ہوجانا یہ تحریم میتہ سے پہلے تھا میتہ کی تحریم کے بعد کھال کی تحریم بھی ثابت ہوگئی۔
جواب : تحریم میتہ کا حکم جب نازل ہوا تو اس حکم کا تعلق ان اجزاء سے تھا جو ماکولہ ہیں غیر ماکول اجزاء تو پہلے کی طرح اصل حکم پر رہے باقی یہ ارشادات تحریم میتہ کے بعد صادر فرمائے گئے ہیں پس تحریم میں تو داخل ہی نہیں۔ جیسا یہ روایات ثابت کر رہی ہیں۔