hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2652

.

الطحاوي

2652
Al Tahawi
۲۶۵۲: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ‘ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أَبُوْ خَالِدٍ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ سَعِیْدِ ڑ الْمَدِیْنِیِّ‘ قَالَ : حَدَّثَتْنِیْ حَفْصَۃُ بِنْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا‘ قَالَتْ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ قَدْ وَضَعَ ثَوْبَہٗ بَیْنَ فَخِذَیْہِ‘ فَجَائَ أَبُوْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَاسْتَأْذَنَ‘ فَأَذِنَ لَہٗ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی ہَیْئَتِہٖ‘ ثُمَّ جَائَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِمِثْلِ ھٰذِہِ الصِّفَۃِ‘ ثُمَّ جَائَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِہٖ، وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی ہَیْئَتِہٖ ثُمَّ جَائَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ عَلَیْہِ‘ فَأَذِنَ لَہٗ‘ ثُمَّ أَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَوْبَہٗ فَتَجَلَّلَہٗ، فَتَحَدَّثُوْا‘ ثُمَّ خَرَجُوْا .فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ جَائَ أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِک‘ وَأَنْتَ عَلَی ہَیْئَتک‘ فَلَمَّا جَائَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ تَجَلَّلْتُ ثَوْبَکَ .فَقَالَ أَوَ لَا أَسْتَحْیِی مِمَّنْ تَسْتَحْیِی مِنْہُ الْمَلَائِکَۃُ؟) قَالَتْ : وَسَمِعْتُ أَبِیْ وَغَیْرَہٗ‘ یُحَدِّثُوْنَ نَحْوًا مِنْ ھٰذَا .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْفَخِذَ لَیْسَتْ مِنَ الْعَوْرَۃِ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : اَلْفَخِذُ عَوْرَۃٌ‘ وَقَالُوْا : قَدْ رَوٰی ھٰذَا الْحَدِیْثَ جَمَاعَۃٌ مِنْ أَہْلِ الْبَیْتِ‘ عَلٰی غَیْرِ مَا رَوَاہُ الَّذِیْنَ احْتَجَجْتُمْ بِرِوَایَتِہِمْ .فَمِنْ ذٰلِکَ مَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ ۔
٢٦٥٢: عبداللہ بن سعید المدینی نے حفصہ بنت عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن اپنا کپڑا اپنی رانوں کے درمیان رکھا تھا کہ ابوبکر (رض) آئے اور انھوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی جبکہ آپ اسی حالت میں رہے پھر عمر (رض) آئے تو آپ اپنی اسی ہئیت پر رہے پھر کچھ اور صحابہ کرام (رض) آئے تو آپ اپنی اسی حالت پر قائم تھے پھر عثمان (رض) آئے اور انھوں نے اجازت طلب کی تو ان کو اجازت مل گئی اس وقت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا کپڑا لے کر کھلے حصہ کو ڈھانپ لیا یہ حضرات آپ سے باتیں کرتے رہے پھر چلے گئے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابوبکر ‘ عمر ‘ علی ] آئے اور آپ کے کچھ اور اصحاب آئے اور آپ اپنی ہئیت پر تشریف فرما رہے جب عثمان (رض) آئے تو آپ نے اپنے کھلے حصہ کو ڈھانپ لیا تو آپ نے فرمایا کیا میں اس سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں حضرت حفصہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے ابی (رض) وغیرہ سے بھی سنا کہ وہ بھی اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ ران ستر کا حصہ نہیں اور انھوں نے اس روایت بالا کو دلیل بنایا ہے۔ دیگر علماء کی جماعت نے ان سے اختلاف کیا اور فرمایا کہ ران ستر کا حصہ ہے۔ اس روایت کو اہل بیت کی ایک جماعت نے اس سے مختلف انداز میں نقل کیا جو تم نے نقل کر کے دلیل بنایا۔ چنانچہ ہم ان میں بعض کو ذیل میں نقل کرتے ہیں۔
تخریج : مسند احمد ٦؍٢٨٨۔
خلاصہ الزام :
نمبر 1: داؤد ظاہری وغیرہ کے ہاں ران ستر میں داخل نہیں ہے۔
نمبر 2: تمام ائمہ کے ہاں ران ستر میں داخل ہے۔
مؤقف اول : ران ستر میں داخل نہیں اس لیے اس کا حکم ستر میں وہ نہیں جو مستورہ اعضاء کا ہے دلیل یہ ہے۔
لغات :: تجلل۔ ڈھانپ لینا۔
نوٹ : ران کے کچھ حصہ کا ظاہر ہونا یہ بتلا رہا ہے کہ ران ستر نہیں ہے ورنہ آپ تو کشف ستر کرنے والے نہ تھے۔
مؤقف فریق ثانی و دلائل : ران ستر کا حصہ ہے اور اس کو اسی طرح ڈھانپنا ضروری ہے جس طرح دیگر اعضاء مستورہ کو۔