۲۶۵۳: مَا حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ‘ قَالَ : أَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا‘ (أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اسْتَأْذَنَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ لَابِسٌ مِرْطَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ‘ فَأَذِنَ لَہٗ فَقَضَی إِلَیْہِ حَاجَتَہٗ ثُمَّ خَرَجَ .ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَیْہِ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَہُوَ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ‘ فَقَضٰی إِلَیْہِ حَاجَتَہٗ‘ ثُمَّ خَرَجَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَیْہِ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَاسْتَوٰی جَالِسًا‘ وَقَالَ لِعَائِشَۃَ اجْمَعِیْ عَلَیْکَ ثِیَابَکَ .فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ لَہٗ عَائِشَۃُ : مَالَکَ لَمْ تَفْزَعْ لِأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا کَمَا فَزِعْتُ لِعُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ؟ فَقَالَ : إِنَّ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ رَجُلٌ کَثِیْرُ الْحَیَائِ، وَلَوْ أَذِنْتَ لَہٗ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ‘ خَشِیْتُ أَنْ یَّبْلُغَ فِیْ حَاجَتِہٖ) .
٢٦٥٣: یحییٰ بن سعید نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی کہ حضرت ابوبکر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی جبکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امّ المؤمنین کی چادر اوپر ڈالنے والے تھے آپ نے ان کو اجازت دے دی انھوں نے اپنی ضرورت پیش کی اور چلے گئے پھر حضرت عمر (رض) نے اجازت طلب کی آپ اس وقت اسی حال میں تھے آپ نے ان کی ضرورت کو پورا کردیا پھر وہ نکل کر چلے گئے تو حضرت عثمان (رض) نے اجازت طلب کی آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ (رض) کو فرمایا اپنے اوپر اپنے کپڑے سمیٹ لو جب حضرت عثمان (رض) چلے گئے تو حضرت عائشہ (رض) نے پوچھا کہ آپ نے ابوبکر و عمر (رض) کے لیے اپنے کو اس طرح تیار نہیں کیا جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کے لیے اپنے کو تیار کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عثمان (رض) بہت شدید حیادار آدمی ہیں اگر اسی حالت میں ان کو اجازت دے دیتا مجھے خطرہ تھا کہ وہ اپنی ضرورت کی بات نہ کہہ سکتے۔
تخریج : بیہقی ٢؍٣٢٦۔