hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2667

.

الطحاوي

2667
Al Tahawi
۲۶۶۷ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ‘ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ الْحَارِثِ‘ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَرْطَاۃَ‘ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ‘ (أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا رَأٰی فَتًی وَہُوَ یُصَلِّیْ قَدْ أَطَالَ صَلَاتَہٗ۔ فَلَمَّا انْصَرَفَ مِنْہَا قَالَ مَنْ یَعْرِفُ ھٰذَا قَالَ رَجُلٌ : أَنَا‘ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : لَوْ کُنْتُ أَعْرِفُہٗ لَأَمَرْتُہٗ أَنْ یُطِیْلَ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ‘ فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِذَا قَامَ الْعَبْدُ یُصَلِّیْ أَتٰی بِذُنُوْبِہٖ، فَجُعِلَتْ عَلٰی رَأْسِہٖ وَعَاتِقَیْہٖ‘ فَکُلَّمَا رَکَعَ أَوْ سَجَدَ‘ تَسَاقَطَتْ عَنْہُ) .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَفْضِیْلُ الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ‘ عَلَی الْقِیَامِ .فَقِیْلَ لَہٗ : مَا فِیْہِ مَا ذَکَرْتُ، وَإِنَّمَا فِیْہِ‘ مَا یُعْطَاہُ الْمُصَلِّیْ عَلَی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ مِنْ حَطَّ الذُّنُوْبِ عَنْہُ‘ وَلَعَلَّہٗ یُعْطٰی بِطُوْلِ الْقِیَامِ‘ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ .وَأَمَّا مَا فِیْہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ‘ فَإِنَّ الَّذِیْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ تَفْضِیْلِہٖ طُوْلَ الْقِیَامِ‘ أَوْلٰی مِنْہُ ۔
٢٦٦٧: جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے ایک نوجوان کو نماز پڑھتے دیکھا جو کہ اپنی نماز کو طویل کرنے والا تھا جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ نے فرمایا اس نوجوان سے کون واقف ہے ایک آدمی نے کہا اس کو میں جانتا ہوں عبداللہ کہنے لگے اگر میں اس کو جانتا تو اس کو کہتا کہ یہ رکوع اور سجود کو طویل کرے اس لیے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے جب بندہ نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے گناہوں کو لایا جاتا ہے اور وہ اس کے کندھوں پر سر پر رکھ دیئے جاتے ہیں وہ جب بھی رکوع یا سجدہ کرتا ہے تو گناہ اس سے گرتے چلے جاتے ہیں۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس روایت میں تو رکوع اور سجدے کو قیام سے افضل کہا گیا ہے۔ تو اس کو جواب میں یوں کہا جائے گا کہ بلاشبہ بات ہے جو تم نے ذکر کی۔ دراصل اس روایت میں نمازی کو رکوع اور سجدے پر ملنے والا ثواب اور اس سے مٹائے جانے والے گناہ اس کا تذکرہ ہے اور ممکن ہے کہ طویل قیام سے یہ ثواب اور بھی بڑھ جائے۔ باقی حضرت عمر (رض) کی وہ روایت جو قیام کی فضیلت کو ظاہر کرتی ہے وہ ہر اعتبار سے اولیٰ اور افضل ہے۔
اشکال :
اس روایت سے تو رکوع ‘ سجود کی قیام پر فضیلت معلوم ہو رہی ہے۔
نمبر 1:
اس روایت سے رکوع و سجود کی قیام پر فضیلت ثابت نہیں ہوتی فقط اس میں نماز کے رکوع و سجود کی طوالت پر ملنے والے اجر کا تذکرہ ہے طول قیام اس کے خلاف نہیں۔
نمبر 2:
قول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تو طویل قیام کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے اس لیے وہ قول ابن عمر (رض) سے اعلیٰ و اولیٰ و افضل ہے اسی کو اختیار کیا جائے۔

تَمَّ کِتَابُ الصَّلَاۃِ