hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2668

.

الطحاوي

2668
Al Tahawi
۲۶۶۸ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ (عَنْ عُیَیْنَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : کُنَّا فِیْ جَنَازَۃِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ‘ أَوْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ‘ فَکَانُوْا یَمْشُوْنَ بِہَا مَشْیًا لَیِّنًا .قَالَ : فَکَانَ أَبُوْ بَکْرَۃَ انْتَہَرَہُمْ وَرَفَعَ عَلَیْہِمْ صَوْتَہٗ وَقَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُنَا نَرْمُلُ بِہَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) .
٢٦٦٨: عیینہ بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ہم ایک جنازہ میں تھے جو کہ عبدالرحمن بن سمرہ یا عثمان بن ابی العاص کا تھا اور وہ لوگ جنازہ لے کر نرم رفتار سے جا رہے تھے تو ابو بکرہ نے ان کو بلند آواز سے ڈانٹا اور کہا کہ ہم نے تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنازے میں چلتے ہوئے رمل کی کیفیت سے چلتے تھے (کندھوں کو ہلاتے ہوئے دوڑتے تھے)
تخریج : ابو داؤد فی الجنائز باب ٤٦‘ نمبر ٣١٨٢‘ نسائی فی الجنائز باب ٤٦۔
جنازہ قبرستان کی طرف کس رفتار سے لے جایا جائے ؟
نمبر 1: امام ابوحنیفہ (رح) اور ابو یوسف (رح) و محمد (رح) کے ہاں تیز چلا جائے مگر دوڑ سے احتراز کیا جائے۔
نمبر 2: ائمہ ثلاثہ اور جمہور کے ہاں جنازہ میانہ رفتار اور نرم گام سے لے جایا جائے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلائل : قبرستان کی طرف میت کو لے جاتے ہوئے حتی الامکان تیزی اختیار کی جائے مگر دوڑ سے بچا جائے تاکہ زیادہ حرکت سے پیٹ سے نجاست نہ خارج ہوجائے۔
دلیل یہ روایات ہیں۔
(کتاب الجنائز میں ١٢ باب اور ٢١٤ روایات و آثار ھیں)