۲۶۷۶ : فَإِذَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ‘ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ : أَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ‘ عَنْ یَحْیَی الْجَابِرِ‘ عَنْ أَبِیْ مَاجِدٍ‘ عَنِ (ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْنَا نَبِیَّنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّیْرِ بِالْجَنَازَۃِ‘ فَقَالَ مَا دُوْنَ الْخَبَبِ‘ فَإِنْ یَّکُ مُؤْمِنًا فَمَا عُجِّلَ فَخَیْرٌ‘ وَإِنْ یَکُ کَافِرًا فَبُعْدًا لِأَہْلِ النَّارِ) .فَأَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ السَّیْرَ بِالْجَنَازَۃِ ہُوَ مَا دُوْنَ الْخَبَبِ .فَذٰلِکَ - عِنْدَنَا - دُوْنَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ مُوْسٰی، حَتّٰی أَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا أَمَرَہُمْ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ وَمِثْلُ مَا أَمَرَہُمْ بِہٖ مِنَ السُّرْعَۃِ فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .فَبِھٰذَا نَأْخُذُ‘ وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٢٦٧٦: ابو ماجد نے ابن مسعود (رض) نے نقل کیا کہ ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنازہ کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہلکی دوڑ سے کم ہو اگر وہ مؤمن صالح ہے تو جس کی طرف اسے لے جاتے ہیں وہ خیر ہے اور اگر وہ کافر ہے تو اہل نار کے لیے ہلاکت ہے۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس روایت میں بتلایا کہ جناے اس قدر تیزی سے لے جائیں کہ دوڑنے سے تو کم رفتار ہے۔ پس ہمارے نزدیک یہ رفتار اس سے کم درجہ ہے جس کا مذکورہ حضرت ابو موسیٰ (رض) کی روایت میں گزرا۔ یہاں تک جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو وہ حکم فرمایا جس کا اس روایت میں مذکور ہے۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ومحمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔
تخریج : ترمذی ١؍١٩٦‘ ابن ماجہ ١؍١٠٦۔
حاصل روایات : اس روایت میں آپ نے خبر دے دی کہ جنازے کو تیز لے کر تو چلنا چاہیے مگر وہ خبب یعنی ہلکی دوڑ سے کم ہو۔
ہمارے ہاں بھی یہی ہے اس طرح نہیں جیسا ابو موسیٰ (رض) کی روایت میں موجود ہے یہاں تک کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایسی تیزی سے روک دیا تو وہ تیزی جو روایت ابوہریرہ (رض) میں ہے وہی مطلوب ہے۔
اور ہمارے ائمہ ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔
لغات : المخض۔ زور سے حرکت دینا۔ الزق۔ مشک۔ اقصد۔ میانہ روی۔ بعد۔ ہلاکت و دوری۔
یہ باب بھی نظر طحاوی (رح) سے خالی ہے اور اس میں اپنے انداز کے خلاف فریق راجح کو پہلے ذکر کیا اور پھر دوسرے فریق مرجوح کو ذکر کر کے فریق اوّل کی طرف سے جواب دیا اور آخر میں راجح قول کی تائید ایک قولی روایت سے کی ہے۔