۲۶۷۷ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ سَالِمٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : (رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَمْشُوْنَ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ) .
٢٦٧٧: سالم نے عبداللہ (رض) سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر و عمر ] ا کو جنازے سے آگے آگے چلتے دیکھا۔
تخریج : ابو داؤد فی الجنائز باب ٤٥‘ نمبر ٣١٧٩‘ ترمذی فی الجنائز باب ٢٦‘ نمبر ١٠٠٧‘ ابن ماجہ فی الاجنائز باب ١٦‘ نمبر ١٤٨٢‘ مسند احمد ٢؍٨‘ ١٢٢۔
جنازے سے آگے چلنا چاہیے یا پیچھے جائز تو ہر دو طرح ہے۔ افضلیت میں اختلاف ہے۔
نمبر 1: امام مالک ‘ شافعی ‘ احمد اور جمہور آگے چلنے کو افضل قرار دیتے ہیں۔
نمبر 2: ائمہ احناف جنازے کے پیچھے چلنے کو افضل گردانتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور مستدل روایات : جنازے سے آگے چلنا افضل ہے دلائل یہ ہیں۔