hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2688

.

الطحاوي

2688
Al Tahawi
۲۶۸۸ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ‘ عَنْ صَالِحٍ‘ مَوْلَی التَّوْأَمَۃِ‘ أَنَّہٗ رَأٰی أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ‘ وَأَبَا أُسَیْدٍ السَّاعِدِیَّ‘ وَأَبَا قَتَادَۃَ‘ یَمْشُوْنَ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ .قَالُوْا : فَقَدْ دَلَّ ھٰذَا عَلٰی أَنَّ الْمَشْیَ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْیِ خَلْفَہَا .قِیْلَ لَہُمْ : مَا دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی شَیْئٍ مِمَّا ذَکَرْتُمْ‘ وَلٰکِنَّہٗ أَبَاحَ الْمَشْیَ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ‘ وَھٰذَا مِمَّا لَا یُنْکِرُہٗ مُخَالِفُہُمْ أَنَّ الْمَشْیَ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ مُبَاحٌ .وَإِنَّمَا اخْتَلَفْتُمْ‘ أَنْتُمْ وَإِیَّاہُ فِی الْأَفْضَلِ مِنْ ذٰلِکَ‘ وَمِنَ الْمَشْیِ خَلَفَ الْجَنَازَۃِ .فَإِنْ کَانَ عِنْدَکُمْ أَثَرٌ صَحِیْحٌ فِیْہِ أَنَّ الْمَشْیَ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْیِ خَلْفَہَا‘ ثَبَتَ بِذٰلِکَ مَا قُلْتُمْ‘ وَإِلَّا فَقَوْلُہٗ إِلَی الْآنَ‘ مُکَافِیٌ لِقَوْلِکُمْ .وَإِنِ احْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٢٦٨٨: مولی التوأمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) ‘ ابن عمر ‘ ابو اسید ساعدی ‘ ابو قتادہ ] کو جنازہ سے آگے چلتے دیکھا۔ انھوں نے کہ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جنازے سے آگے چلنا پیچھے چلنے سے افضل ہے۔ ان کے جواب میں یہ کہا جائے گا ۔ اس میں تو تمہاری مذکورہ بات پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ پس اتنی بات ہے کہ اس سے جنازے کے آگے چلنا مباح ثابت ہوگیا ۔ جس کا ان کے مخالفین انکار نہیں کرتے۔ اس لیے کہ اختلاف تمہارے اور ان کا افضلیت میں ہے کہ آگے چلنا یا پیچھے چلنا افضل ہے۔ پس اگر تمہارے پاس کوئی جنازے سے آگے چلنے کی افضلیت کو ظاہر کرتا ہے تو پھر آگے چلنا افضل ہو ۔ ورنہ تو ان کا ” قولہ الا الآن ‘ ‘ ورنہ یہ تمہارے قول کے برابر ہے۔ اگر وہ اس روایت کو دلیل میں پیش کریں ۔