۲۶۸۹ : بِمَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ عَنْ مَالِکٍ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ قَالَ : لَیْسَ مِنَ السُّنَّۃِ الْمَشْیُ خَلَفَ الْجَنَازَۃِ .قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : وَالْمَشْیُ خَلَفَ الْجَنَازَۃِ‘ مِنْ خَطَأِ السُّنَّۃِ .قِیْلَ لَہُمْ : ھٰذَا کَلَامُ ابْنِ شِہَابٍ‘ فَقَوْلُہٗ فِیْ ذٰلِکَ‘ کَقَوْلِکُمْ‘ اِذْ کَانَ لِمُخَالِفِہٖ وَمُخَالِفِکُمْ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِ وَعَلَیْکُمْ‘ مَا سَنَذْکُرُہٗ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ إِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی .ثُمَّ رَجَعْنَا إِلٰی مَا رُوِیَ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ مِنَ الْآثَارِ‘ ہَلْ فِیْہِ شَیْء ٌ یُبِیْحُ الْمَشْیَ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ فَإِذَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ‘ وَابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ.
٢٦٨٩: ابن شہاب کہتے ہیں جنازے کے پیچھے چلنا سنت نہیں ہے۔ ابن شہاب کے اس قول سے معلوم ہوا کہ جب پیچھے چلنا سنت نہیں تو خلاف سنت ہے یہ تو ابن شہاب زہری کا قول ہے جو کہ نہ اثر صحابی ہے نہ قول رسول ہے پس فریق ثانی کے اپنے قول کے برابر ہے جس کو ان کے خلاف حجت میں پیش نہیں کرسکتے۔ ہم تو جنازے کے پیچھے چلنے کا سنت ہونا عمل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عمل صحابہ (رض) سے ثابت کرتے ہیں۔ روایت یہ ہے۔ اس کو ربیع اور ابن ابی داؤد نے نقل کیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ جنازے کے پیچھے چلنا خلاف سنت ہے۔ اس روایت کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ ابن شہاب کا کلام ہے اور اس سلسلہ میں اس کا اور تمہارا قول برابر ہے۔ اس لیے کہ اس کے اور تمہارے مخالفین کے پاس اس کے خلاف دلیل موجود ہے۔ ہم عنقریب اس لائیں ہے۔ اب ہم دوبارہ اس باب کے آثار کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ آیا ان آثار میں کوئی ایسی چیز ملتی ہے جو جنازے کے پیچھے چلنے کو مباح ثابت کرے۔ تو ربیع چیز ی اور ابن ابی داؤد کی روایات مل گئیں۔ ان تمام صحابہ کرام کا یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ آگے چلنا افضل ہے۔
الجواب۔ قیل لہم۔۔۔ :
ان آثار سے بھی اباحت اور جواز کا ثبوت تو ملتا ہے جس کا کوئی بھی منکر نہیں کلام تو افضلیت میں ہے جس کی کوئی صریح دلیل نہیں مل رہی ورنہ فریق ثانی کی بات تو تمہارے برابر ہے۔
اشکال :
جنازے کے پیچھے چلنا خلاف سنت ہے اور ابن شہاب زہری بھی یہی کہتے ہیں پس خلاف سنت کو موافق سنت کا مقابل کیسے قرار دیں گے روایت ملاحظہ ہو۔