۲۶۹۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ الْبُرْسَانِیُّ‘ عَنْ یُوْنُسَ بْنِ یَزِیْدَ‘ ثُمَّ ذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَمْشِیْ خَلَفَ الْجَنَازَۃِ‘ کَمَا کَانَ یَمْشِیْ أَمَامَہَا .فَإِنْ کَانَ مَشْیُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ حُجَّۃً لَکُمْ أَنَّ ذٰلِکَ أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْیِ خَلْفَہَا‘ فَکَذٰلِکَ مَشْیُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا خَلْفَہَا‘ حُجَّۃٌ لِمُخَالِفِکُمْ عَلَیْکُمْ أَنَّ ذٰلِکَ أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْیِ أَمَامَہَا‘ فَقَدِ اسْتَوٰی خَصْمُکُمْ‘ وَأَنْتُمْ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ‘ فَلاَ حُجَّۃَ لَکُمْ فِیْہِ عَلَیْہِ .
٢٦٩١: محمد بن بکر برسانی نے یونس بن یزید سے پھر انھوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے۔ اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازے کے پیچھے چلتے جیسا کہ آگے چلتے اگر جنازے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر و عمر (رض) کا جازے سے آگے چلنا تمہاری دلیل ہے اور یہ پیچھے چلنے سے افضل ہے۔ تو اسی طرح جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر و عمر (رض) کا پیچھے چلنا تمہارے مخالفین کی دلیل ہے۔ اور آگے چلنے سے ان کے ہاں افضل ہے۔ اب اس سلسلے میں تم اور تمہارا حزب مکالف برابر ہوگیا ۔ پس اب تمہاری دلیل میں ان کے خلاف کوئی حجت نہ رہی۔
تخریج : ترمذی ١؍١٩٦۔
حاصل روایات : اس روایت کے پیچھے چلنے کا سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور سنت خلافء راشدین ہونا ثابت کردیا اب مخالفین کے خلاف تمہارے پاس افضلیت کی کوئی وجہ موجود نہیں آگے اور پیچھے چلنے ہر دو کا مباح ہونا اس روایت سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ روایت یہ ہے۔