hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2692

.

الطحاوي

2692
Al Tahawi
۲۶۹۲ : وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ وَابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَا : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ‘ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ‘ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (الرَّاکِبُ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ‘ وَالْمَاشِیْ‘ حَیْثُ شَائَ مِنْہَا) .فَأَبَاحَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَیْضًا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ الْمَشْیَ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ‘ کَمَا أَبَاحَ الْمَشْیَ أَمَامَہَا .وَلَیْسَ فِیْ شَیْئٍ مِمَّا ذَکَرْنَا مَا یَدُلُّ عَلٰی الْأَفْضَلِ مِنْ ذٰلِکَ‘ مَا ہُوَ ؟ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَا مَعْنَاہُ‘ قَرِیْبٌ مِنْ مَعْنٰی حَدِیْثِ الْمُغِیْرَۃِ‘ وَلَمْ یَذْکُرْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٢٦٩٢: زیاد بن جبیر نے اپنے والد سے انھوں نے مغیرہ بن شعبہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سوار جنازے کے پیچھے چلے پیدل جہاں چاہے چلے۔ اس روایت میں بھی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنازے کے پیچھے چلنے کو مباح قرار دیا ۔ جیسا کہ آگے چلنے کو مباح قرار دیا ان روایات میں کسی ایک کے دوسرے سے افضل ہونے کی کوئی دلیل نہیں اور حضرت انسن بن مالک (رض) سے ایسی روایت آتی ہے جس کا مفہوم روایت مغیرہ (رض) کے قریب ہے مگر اس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تذکرہ نہیں ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الجنائز باب ٤٥‘ نمبر ٨‘ ٣‘ ترمذی فی الجنائز باب ٤٢‘ نمبر ١٠٣١‘ ابن ماجہ فی الجنائز باب ١٥‘ نمبر ١٤٨١۔
اس روایت میں فرمان نبوت سے جنازے کے آگے پیچھے چلنے کی اباحیت ثابت ہوئی پس خلاف سنت کہنا درست نہ رہا۔ ان میں سے کسی روایت میں بھی آگے چلنے کی افضلیت مذکور نہیں۔ حضرت انس (رض) کی روایت بھی اس مفہوم کی مذکور ہے مگر اس میں مگر وہ مرفوع نہیں ہے۔ روایت یہ ہے۔