۲۶۹۵ : مَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَنِیِّ بْنُ رِفَاعَۃَ اللَّحْنِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَیْمٍ‘ قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ سُوَیْد بْنِ مُقْرِنٍ‘ قَالَ : سَمِعْتُ (الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یَقُوْلُ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاتِّبَاعِ الْجَنَازَۃِ) .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ أَمَرَہُمْ بِاتِّبَاعِ الْجَنَازَۃِ‘ وَالْمُتَّبِعُ الْمَشٰی‘ ہُوَ الْمُتَأَخِّرُ عَنْہُ‘ لَا الْمُتَقَدِّمُ أَمَامَہٗ، فَفِیْمَا ذَکَرْنَا‘ مَا قَدْ دَلَّ عَلٰی فَسَادِ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ أَنَّ الْمَشْیَ خَلَفَ الْجَنَازَۃِ مِنْ خَطَأِ السُّنَّۃِ .
٢٦٩٥: معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں میں نے براء بن عازب (رض) کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم جنازے کے پیچھے چلا کریں۔ اس روایت میں یہ فرمایا کہ آپ نے ان کو جنازے کے پیچھے چلنے کا حکم فرمایا ۔ اور پیچھے چلنے والا جنازے سے متاخر ہوتا ہے۔ آگے اور مقدم نہیں ۔ اس روایت میں زھری کے قول کی غلطی ظاہر ہوتی ہے۔ کہ جنازے کے پیچھے چلنا خلاف سنت ہے۔
تخریج : بخاری ١؍١٦٥۔
اس روایت میں جنازے کے پیچھے چلنے کا حکم زبان نبوت سے ثابت ہو رہا ہے اتباع اور المتبع المشی کا معنی پیچھے چلنے والا ہی آتا ہے۔
اس ارشاد سے زہری کے قول کا غلط ہونا ثابت ہوگیا جو کہ جنازے کے پیچھے چلنا خلاف سنت کہہ رہے تھے۔۔ پس وہی افضل ہے جس کا حکم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمائیں۔ مزید روایت ملاحظہ فرمائیں۔