۲۶۹۶ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ‘ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَسَارٍ‘ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ‘ قَالَ : قُلْتُ لِعَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ مَا تَقُوْلُ فِی الْمَشْیِ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ ؟ فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (الْمَشْیُ خَلْفَہَا أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْیِ أَمَامَہَا‘ کَفَضْلِ الْمَکْتُوْبَۃِ عَلٰی التَّطَوُّعِ) .قَالَ: قُلْتُ، فَإِنِّیْ رَأَیْتُ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَمْشِیَانِ أَمَامَہَا‘ فَقَالَ (إِنَّمَا یَکْرَہَانِ أَنْ یُّحْرِجَا النَّاسَ) .
٢٦٩٦: عمرو بن حریث کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) سے پوچھا آپ جنازے سے آگے چلنے کے متعلق کیا فرماتے ہیں تو علی (رض) فرمانے لگے پیچھے چلنا آگے چلنے سے اتنا افضل ہے جتنا کہ فرض نماز نفل سے افضل ہے میں نے دوسرا سوال کیا میں نے تو ابوبکر و عمر ] کو جنازہ کے آگے چلتے دیکھا ہے تو فرمایا وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ لوگوں کو تنگی میں مبتلا کریں (یعنی سب لوگ ان کے ساتھ چلنا پسند کرتے جس سے مجمع کو تکلیف ہوتی تو انھوں نے آگے چل کر اس تنگی سے لوگوں کو محفوظ کردیا) ۔