hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2697

.

الطحاوي

2697
Al Tahawi
۲۶۹۷ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ‘ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِیٍّ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ الْأَحْوَصِ‘ عَنْ أَبِیْ فَرْوَۃَ الْہَمْدَانِیِّ‘ عَنْ زَائِدَۃَ بْنِ خِرَاشٍ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبْزٰی‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ قَالَ : کُنْتُ أَمْشِیْ فِیْ جَنَازَۃٍ فِیْہَا أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ . فَکَانَ أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَمْشِیَانِ أَمَامَہَا‘ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَمْشِیْ خَلْفَہَا یَدِیْ فِیْ یَدِہٖ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : أَمَّا إِنَّ فَضْلَ الرَّجُلِ یَمْشِیْ خَلَفَ الْجَنَازَۃِ‘ عَلٰی الَّذِیْ یَمْشِیْ أَمَامَہَا‘ کَفَضْلِ صَلَاۃِ الْجَمَاعَۃِ عَلٰی صَلَاۃِ الْفَذِّ‘ وَإِنَّہُمَا لَیَعْلَمَانِ مِنْ ذٰلِکَ مِثْلَ الَّذِیْ أَعْلَمُ‘ وَلٰکِنَّہُمَا سَہْلَانِ یُسَہِّلَانِ عَلَی النَّاسِ .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَفْضِیْلُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ الْمَشْیَ خَلَفَ الْجَنَازَۃِ‘ عَلَی الْمَشْیِ أَمَامَہَا .وَقَوْلُہٗ (إِنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَعْلَمَانِ مِثْلَ مَا أَعْلَمُ‘ وَإِنَّہُمَا إِنَّمَا یَتْرُکَانِ ذٰلِکَ لِلتَّسْہِیْلِ عَلَی النَّاسِ‘ لَا لِأَنَّ ذٰلِکَ أَفْضَلُ مِنْ غَیْرِہِ) .وَھٰذَا مِمَّا لَا یُقَالُ بِالرَّأْیِ‘ إِنَّمَا یُقَالُ وَیُعْلَمُ‘ بِمَا قَدْ وَقَفَہُمْ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَعَلَّمَہُمْ إِیَّاہُ مِنْ ذٰلِکَ .فَقَدْ ثَبَتَ بِتَصْحِیْحِ مَا رَوَیْنَا‘ أَنَّ الْمَشْیَ خَلَفَ الْجَنَازَۃِ‘ أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْیِ أَمَامَہَا .
٢٦٩٧: ابن ابزی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں جنازہ میں جا رہا تھا جس میں ابوبکر و عمرو علی ] بھی تھے ابوبکر و عمر ] تو جنازے سے آگے تھے اور علی (رض) اس کے پیچھے چل رہے تھے اور میرا ہاتھ ان کے ہاتھ میں تھا تو علی (رض) نے فرمایا سنو ! آدمی کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ جنازے کے پیچھے چلے اور آگے چلنے والے کے مقابلے میں اس کو اتنی فضیلت حاصل ہے جس قدر جماعت کی نماز کو منفرد کی نماز پر فضیلت حاصل ہے اور وہ دونوں حضرات اس بات کو جانتے ہیں جیسا میں جانتا ہوں مگر وہ لوگوں کے لیے سہولت پیدا کرتے ہیں۔ اس روایت میں حضرت علی (رض) نے جنازے سے پیچھے چلنے کو آگے سے افضل قرار دیا اور اس کا یہ قول کہ ابوبکر و عمر (رض) اس بات کو اسی طرح جانتے تھے جیسے میں جانتا ہوں ۔ انھوں نے لوگوں کی سہولت کے لیے اسے ترک کیا ۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ اسے دوسرے افضل مانتے تھے اور یہ بات رأی و قیاس سے معلوم نہیں ہوسکتی ۔ یہ جناب رسول اللہ کے بتلانے اور سکھانے سے ہی معلوم ہوسکتی ہے۔ ان روایات کی تصحیح کے انداز سے معلوم ہوا کہ جنازے کے پیچھے چلنا آگے چلنے سے افضل ہے۔
اس روایت میں زبان علی (رض) سے جنازے کے پیچھے چلنے کو آگے چلنے پر فضیلت دی گئی ہے اور پھر ان کی زبان سے ابوبکر و عمر ] کے عمل کی تاویل بھی واضح کردی گئی ہے کہ وہ فضیلت سمجھ کر نہیں چلتے بلکہ لوگوں کی سہولت ان کو پیش نظر ہے۔
علی (رض) کا یہ فضیلت دینا اور پھر اس کا حوالہ دینا کہ وہ دونوں حضرات بھی جانتے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ علم ان کو زبان نبوت سے حاصل ہوا۔ اس کی مزید تائید ملاحظہ ہو۔