۲۷۰۳ : وَحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ‘ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِیٍّ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ‘ عَنْ مُغِیْرَۃَ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ قَالَ : کَانُوْا یَکْرَہُوْنَ السَّیْرَ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ .فَھٰذَا اِبْرَاہِیْمُ یَقُوْلُ ھٰذَا‘ وَإِذَا قَالَ (کَانُوْا) فَإِنَّمَا یَعْنِیْ بِذٰلِکَ أَصْحَابَ عَبْدِ اللّٰہِ‘ فَقَدْ کَانُوْا یَکْرَہُوْنَ ھٰذَا‘ ثُمَّ یَفْعَلُوْنَہٗ لِلْعُذْرِ‘ لِأَنَّ ذٰلِکَ ہُوَ أَفْضَلُ مِنْ مُخَالَطَۃِ النِّسَائِ اِذَا قَرُبْنَ مِنَ الْجَنَازَۃِ‘ فَأَمَّا اِذَا بَعُدْنَ مِنْہَا‘ أَوْ لَمْ یَکُنْ مَعَہَا نِسَاء ٌ‘ فَإِنَّ الْمَشْیَ خَلْفَہَا أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْیِ أَمَامَہَا وَعَنْ یَّمِیْنِہَا‘ وَعَنْ شِمَالِہَا .وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٢٧٠٣: مغیرہ نے ابراہیم سے نقل کیا کہ یہ حضرات شافردان عبداللہ جنازہ کے آگے چلنا مکروہ خیال کرتے تھے۔ یہ ابراہیم ہیں جو اصحاب ابن مسعود (رض) کے متعلق بتلا رہے ہیں وہ سب جنازے سے آگے چلنے کو ناپسند قرار دیتے اور اگر کبھی کرتے تو وہ کسی خاص عذر کی بنا پر کرتے کیونکہ اس وقت عورتوں کی مخالطت سے جنازے سے آگے چلنا افضل ہے جب عورتیں نہ ہوں یا دور ہوں تو پھر پیچھے چلنا افضل ہے اس سے کہ آگے یا دائیں بائیں چلے۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد بن الحسن رحمہم اللہ کا قول ہے۔
حاصل روایات : اس باب میں امام نے مسلک راجح کو روایات اور جوابات سے خوب پختہ و مبرہن کیا ہے اور نظر کے بعد معمول کے مطابق اقوال تابعین سے مؤید کردیا اس باب میں صرف افضل و غیر افضل کا اختلاف ہے۔