۲۷۰۴ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ‘ قَالَ : ثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُوْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ‘ عَنْ إِسْمَاعِیْلِ بْنِ أُمَیَّۃَ‘ عَنْ مُوْسَی بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَبَاحٍ أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ مَرَّتْ بِہٖ جَنَازَۃٌ فَقَامَ لَہَا .
٢٧٠٤: موسیٰ بن عمران نے نقل کیا کہ ابان بن عثمان کے پاس سے جنازہ گزرا وہ جنازے کی خاطر کھڑے ہوگئے۔
تخریج : مسند احمد ١؍٦٤۔
جنازہ جب گزر رہا ہو تو اس وقت اسے دیکھ کر کھڑے ہونے کا حکم باقی ہے یا منسوخ ہوچکا۔
نمبر 1: امام شافعی (رح) کے ہاں جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہونا مستحب ہے۔
نمبر ٢ : ائمہ احناف اور مالک و احمد کھڑے ہونے کے حکم کو منسوخ مانتے ہیں امام احمد کھڑے ہونے نہ ہونے میں اختیار دیتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلائل : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کھڑے ہونے کا ثبوت ہے اس لیے کھڑے ہونا مستحب ہے دلائل ملاحظہ ہوں۔