۲۷۳۰ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ‘ عَنْ مَسْعُوْدِ بْنِ الْحَکَمِ‘ عَنْ (عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : رَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا‘ وَرَأَیْنَاہُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا) .ؓفَقَدْ ثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّ الْقِیَامَ لِلْجَنَازَۃِ قَدْ کَانَ ثُمَّ نُسِخَ .فَقَالَ قَوْمٌ : إِنَّمَا نُسِخَ ذٰلِکَ لِخِلَافِ أَہْلِ الْکِتَابِ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٢٧٣٠: مسعود بن حکم نے حضرت علی (رض) سے نقل کیا کہ ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑے دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور جب بیٹھے دیکھا تو بیٹھ گئے۔ ان مذکورہ روایات سے یہ بات چابت ہوئی کہ جنازہ کے لیے قیام تھا پھر منسوخ ہوا بعض علماء نے کہا کہ یہ اہل کتاب کی مخالفت کی بناء پر منسوخ ہوا اور انھوں نے ان روایات کو دلیل بنایا ۔
حاصل روایات : ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ اولاً جنازے کے لیے قیام کا حکم تھا پھر منسوخ ہوگیا بعض لوگوں نے ان روایات کی وجہ سے قیام کے منسوخ ہونے کی وجہ یہود کی مخالفت بتلائی ہے۔