۲۷۳۱ : بِمَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیْسٰی‘ قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سُلَیْمَانَ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ جُنَادَۃَ بْنِ أَبِیْ أُمَیَّۃَ‘ عَنْ (عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ذَکَرَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اتَّبَعَ جَنَازَۃً‘ لَمْ یَجْلِسْ حَتّٰی تُوْضَعَ فِی اللَّحْدِ. قَالَ : فَعَرَضَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْیَہُوْدِ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ہٰکَذَا نَفْعَلُ. قَالَ : فَجَلَسَ النَّبِیُّ وَقَالَ خَالِفُوْہُمْ) .وَلَیْسَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ - عِنْدَنَا - یَدُلُّ عَلٰی مَا ذَہَبُوْا إِلَیْہٖ‘ لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ ۔
٢٧٣١: جنادہ بن ابی امیہ نے عبادہ بن صامت (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی جنازہ کے ساتھ جاتے تو لحد میں رکھنے تک نہ بیٹھتے تھے۔ ایک دن ایک یہودی عالم آپ کو ملا تو فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں عبادہ کہتے ہیں آپ بیٹھ گئے اور فرمایا ان کی مخالفت کرو۔ یہ روایت ہمارے اس بات پر دلالت نہیں کرتی جس کو انھوں نے اختیار کیا کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مروی ہے۔
تخریج : مسلم فی الجنائز نمبر ٨٤۔
مگر اس روایت میں بتلائی گئی وجہ اس موضوع پر کمزور دلیل ہے کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معمول مبارک یہ تھا کہ جس کسی معاملے میں وحی ابھی نازل نہ ہوتی اور مشرکین و اہل کتاب کا عمل باہمی متضاد ہوتا تو آپ اہل کتاب کے موافق عمل فرماتے رہتے تاآنکہ اس کے متعلق کوئی وحی اترتی تو پھر اس کے حکم کو اپناتے جیسا کہ یہ روایت دلالت کرتی ہے۔