۲۷۳۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَیْرٍ الْأَیْلِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا سَلَامَۃُ‘ عَنْ عُقَیْلٍ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَأَخْبَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَتْبَعُ أَہْلَ الْکِتَابِ حَتّٰی یُؤْمَرَ بِخِلَافِ ذٰلِکَ .فَاسْتَحَالَ أَنْ یَّکُوْنَ مَا أُمِرَ بِہِ مِنَ الْقُعُوْدِ فِیْ حَدِیْثِ عُبَادَۃَ ہُوَ بِخِلَافِ أَہْلِ الْکِتَابِ قَبْلَ أَنْ یُؤْمَرَ بِخِلَافِہِمْ فِیْ ذٰلِکَ‘ لِأَنَّ حُکْمَہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَّکُوْنَ عَلَی شَرِیْعَۃِ النَّبِیِّ الَّذِیْ کَانَ قَبْلَہٗ، حَتّٰی یَحْدُثَ لَہٗ شَرِیْعَۃٌ تَنْسَخُ مَا تَقَدَّمَہَا‘ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ (أُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدَاہُمْ اقْتَدِہِ) .وَلٰـکِنَّہٗ تَرَکَ ذٰلِکَ - عِنْدَنَا - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ حِیْنَ أَحْدَثَ اللّٰہُ لَہٗ شَرِیْعَۃً فِیْ ذٰلِکَ‘ وَہُوَ الْقُعُوْدُ بِنَسْخِ مَا قَبْلَہَا‘ وَہُوَ الْقِیَامُ .وَقَدْ رُوِیَ ھٰذَا الْمَذْہَبُ‘ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .
٢٧٣٣: عقیل بن ابن شہاب سے اس نے کہا عبیداللہ نے مجھے خبر دی پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ پس حضرت ابن عباس (رض) نے خبر دی کہ آپ اہل کتاب والی بات کو اپناتے یہاں تک کہ اس کے خلاف کا حکم ملتا ۔ تو یہ بات ناممکن ہے کہ آپ کو حدیث عبادہ میں جو بیٹھنے کا حکم ملا وہ اہل کتاب کے طریقہ کی مخالفت کی وجہ سے ہو اور وہ اس سے پہلے ہو کہ آپ کو ان کی مخالفت کا حکم نہ ہوا ہو ۔ کیونکہ آپ نے جس بات کا حکم دیا وہ کسی پہلے پیغمبر کی شریعت کا حکم ہو۔ یہاں تک کہ اس کے لیے منسوخ کرنے والا نیا حکم آئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا : ” اولٰٓپک الذین ھدی اللہ فبھد اھم اقتدہ “ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی۔ پس ان کی ہدایت کی اقتداء کرو۔ مگر ہمارے نزدیک اس کا ترک (واللہ اعلم) اس وقت ہوا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی شریعت کا حکم دیا ۔ تو بیٹھنے کی وجہ پہلے حکم کا منسوخ ہونا ہے جو کہ قیام ہے۔ اور یہ طریقہ حضرت علی (رض) سے منقول ہے۔
حاصل روایات : ان دونوں روایتوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ اہل کتاب کی موافقت کو مشرکین کے بالمقابل ترجیح دیتے جب تک کہ اس کے خلاف وحی سے حکم نہ آتا۔ پس اس اعتبار سے یہ ناممکن ہے کہ حدیث عبادہ (رض) میں قعود والا حکم ان کی مخالفت کی وجہ سے دیا اور وحی سے حکم نہ ہوا بلکہ اس کی حکم کی وجہ سابقہ حکم کا منسوخ ہونا ہی ہے سابقہ انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق فرمان الٰہی ہے۔ اولٰئک الذین ہدی اللہ فبہدٰہم اقتدہ (انعام۔ ٩٠) تو آپ کے چھوڑنے کی وجہ سابقہ کی تنسیخ ہے نہ کہ یہود کی مخالفت۔ اور اس کا ثبوت حضرت علی (رض) کی اس روایت سے ہوتا ہے۔