۲۷۳۴ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ‘ قَالَ : ثَنَا لَیْثُ بْنُ أَبِیْ سُلَیْمٍ‘ عَنْ مُجَاہِدٍ‘ عَنِ ابْنِ سَخْبَرَۃَ‘ قَالَ : (کُنَّا قُعُوْدًا مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نَنْتَظِرُ جَنَازَۃً‘ فَمُرَّ بِجَنَازَۃٍ أُخْرٰی‘ فَقُمْنَا‘ فَقَالَ : مَا ھٰذَا الْقِیَامُ ؟ فَقُلْتُ : مَا تَأْتُوْنَا بِہٖ، یَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ قَالَ أَبُوْ مُوْسٰی : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا رَأَیْتُمْ جَنَازَۃَ مُسْلِمٍ أَوْ یَہُوْدِیٍّ أَوْ نَصْرَانِیٍّ‘ فَقُوْمُوْا‘ فَإِنَّکُمْ لَسْتُمْ لَہَا تَقُوْمُوْنَ‘ إِنَّمَا تَقُوْمُوْنَ لِمَنْ مَعَہَا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ .فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : اِذَا صَنَعَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّۃً وَاحِدَۃً کَانَ یَتَشَبَّہُ بِأَہْلِ الْکِتَابِ فِی الشَّیْئِ ‘ فَإِذَا نُہِیَ عَنْہُ تَرَکَہٗ) .فَأَخْبَرَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ إِنَّمَا کَانَ قَامَ مَرَّۃً فِیْ بَدْئِ أَمْرِہٖ‘ عَلَی التَّشَبُّہِ مِنْہُ بِأَہْلِ الْکِتَابِ‘ وَعَلَی الِاقْتِدَائِ بِمَنْ کَانَ قَبْلَہٗ مِنَ الْأَنْبِیَائِ ‘ حَتّٰی أَحْدَثَ اللّٰہُ تَعَالٰی لَہٗ خِلَافَ ذٰلِکَ‘ وَہُوَ الْقُعُوْدُ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ مَا صَرَفْنَا إِلَیْہِ وَجْہَ حَدِیْثِ عُبَادَۃَ .
٢٧٣٤: مجاہد نے ابن سخرہ سے نقل کیا کہ ہم علی (رض) کے ساتھ ایک جنازہ کی انتظار میں بیٹھے تھے کہ وہاں سے ایک اور جنازہ گزرا تو ہم کھڑے ہوگئے تو آپ نے فرمایا تم کیوں کھڑے ہوئے میں نے کہا اے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم اس سلسلے میں ہمیں کیا فرماتے ہو تو ابو موسیٰ (رض) کہنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم کسی مسلمان یا یہودی یا نصرانی کا جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ کیونکہ تم اس شخص کے لیے کھڑے نہیں ہوتے ہو بلکہ تم ان فرشتوں کے لیے کھڑے ہوئے ہو جو اس کے ساتھ ہیں۔ حضرت علی (رض) نے اس روایت میں اس بات کی خبردی کہ کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتداء میں ایک مرتبہ کھڑے ہوتے اس کا مقصد اہل کتاب کے ساتھ مشابہت تھی اور اپنے سے پہلے انبیاء اسلام کے طریقے کی پیروی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے خلاف نیا حکم دے دیا اور وہ بیٹھنے کا حکم تھا۔ اس سے وہ بات ثابت ہوئی جس کی طرف ہم حدیث عبادہ کا رخ موڑا ہے۔ حضرت علی (رض) فرمانے لگے ایک مرتبہ یہ عمل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا اور آپ کی عادت مبارکہ اہل کتاب سے مشابہت کی تھی جب اس سے روک دیا جاتا تو آپ اسے چھوڑ دیتے۔
تخریج : بخاری فی الجنائز باب ٤٩۔
اس روایت میں علی (رض) نے واضح بتلایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتداء میں ایک مرتبہ اہل کتاب کی مشابہت میں کھڑے ہوئے اور پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی اقتداء کرتے ہوئے یہ کیا یہاں تک کہ اس کے خلاف حکم آیا اور وہ بیٹھنے کا حکم تھا۔
پس اس سے حدیث عبادہ (رض) کی صحیح توجیہ ہوگئی۔