۲۷۳۶ : وَقَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ‘ عَنْ أُنَیْسِ بْنِ أَبِیْ یَحْیٰی‘ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِیْ یَقُوْلُ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَأَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَجْلِسُوْنَ قَبْلَ أَنْ تُوْضَعَ الْجَنَازَۃُ .فَھٰذَا ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ کَانَ یَفْعَلُ ھٰذَا‘ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلَافُ ذٰلِکَ .فَدَلَّ تَرْکُہٗ لِذٰلِکَ إِلٰی مَا کَانَ یَفْعَلُ‘ عَلَی ثُبُوْتِ نَسْخٍ‘ فَأَحْدَثَہٗ عَامِرُ بْنُ رَبِیْعَۃَ .
٢٧٣٦: انیس بن ابی یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا کہ ابن عمر (رض) اور دیگر اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے۔ یہ ابن عمر (رض) جو پہلے یہ عمل کرتے تھے اور عامر بن ربیعہ نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس کے خلاف نقل کیا ہے۔ پس اس سے جو پہلے کرتے تھے اس کے منسوخ ہونے کا ثبوت مل گیا تبھی تو عامر بن ربیعہ رضی الہ نے اس نئے حکم کو اختیار کیا۔
حاصل : یہ ابن عمر (رض) ہیں جو پہلے کھڑے ہونے کا عمل کرتے تھے پھر جب نسخ کا حکم ہوا تو اس کے خلاف یہ بیٹھنے لگے۔
عامر بن ربیعہ (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے خلاف روایت نقل کی ہے۔
حاصل : اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پہلا حکم منسوخ ہوا تبھی تو عامر (رض) نے یہ حکم اپنایا یہ تابعی کا عمل بھی نقل کیا جا رہا ہے۔