۲۷۳۷ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ أَیْضًا‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ‘ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَہٗ أَنَّ الْقَاسِمَ کَانَ یَجْلِسُ قَبْلَ أَنْ تُوْضَعَ الْجَنَازَۃُ‘ وَلَا یَقُوْمُ لَہَا‘ وَیُخْبِرُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : کَانَ أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ یَقُوْمُوْنَ لَہَا اِذَا رَأَوْہَا‘ وَیَقُوْلُوْنَ : فِیْ أَہْلِک مَا أَنْتَ فِیْ أَہْلِک مَا أَنْتَ. فَھٰذِہٖ عَائِشَۃُ تُنْکِرُ الْقِیَامَ لَہَا أَصْلًا‘ وَتُخْبِرُ أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ مِنْ أَفْعَالِ أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ .وَکَانَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبُوْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی یَذْہَبُوْنَ فِیْ کُلِّ مَا ذَکَرْنَا فِیْ ھٰذَا الْبَابِ إِلٰی مَا قَدْ بَیَّنَّا نَسْخَہٗ‘ لِمَا قَدْ خَالَفَہٗ وَبِہٖ نَأْخُذُ
٢٧٣٧: عبدالرحمن بن قاسم کہتے ہیں کہ قاسم جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھ جاتے اور کھڑے نہ ہوتے اور اس کے متعلق عائشہ صدیقہ (رض) سے بیان کرتے کہ وہ فرمایا کرتی تھیں زمانہ جاہلیت میں لوگ جنازے کو دیکھ کر اس کے لیے کھڑے ہوجاتے اور اس طرح کہتے : فی اہلک ماانت فی اہلک ماانت۔ تو اپنے گھر میں نہیں گھر میں نہیں۔ عائشہ (رض) تو جنازے کے لیے قیام کا بالکل انکار کرتی تھیں اور بتلاتیں کہ یہ اہل جاہلیت کا طرز عمل ہے۔ یہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) ہیں۔ جو بالکل قیام کا انکار کرنے والی ہیں اور بتلارہی ہیں کہ یہ زمانہ جاہلیت کے افعال سے ہیں۔ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) اس طرف گئے ہیں کہ یہ حکم تھا پھر منسوخ ہوگیا ۔ اسی کو ہم اختیار کرنے والے ہیں۔ ہمارے ائمہ ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔
نؤٹ : یہ باب بھی نظر طحاوی (رح) سے خالی ہے جنازے کے لیے کھڑا ہونا منسوخ ہوچکا ہے اس پر عمل کرنا درست نہیں البتہ یہ بات ضمنا جان لینا مناسب ہے کہ جنازے کو لے جانے والے میت کو قبر میں رکھنے سے پہلے بلاکراہت احناف و شوافع و مالکیہ کے ہاں بیٹھ سکتے ہیں البتہ امام احمد بن حنبل کے ہاں میت کو قبر میں رکھنے سے پہلے ان کا بیٹھ جانا مکروہ ہے۔ واللہ اعلم۔