۲۷۴۰ : بِمَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ غَالِبٍ‘ قَالَ : (رَأَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃِ رَجُلٍ‘ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِہٖ‘ وَجِیْئَ بِجَنَازَۃِ امْرَأَۃٍ‘ فَقَامَ عِنْدَ وَسَطِہَا .فَقَالَ لَہُ الْعَلَائُ بْنُ زِیَادٍ : یَا أَبَا حَمْزَۃَ‘ ہٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُ ؟ قَالَ : نَعَمْ‘ فَالْتَفَتَ إِلَیْنَا الْعَلَائُ بْنُ زِیَادٍ‘ فَقَالَ : احْفَظُوْا) .
٢٧٤٠‘ ابو غالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے ایک آدمی کا جنازہ پڑھا تو آپ اس کے سر کے برابر کھڑے ہوئے اور ان کے پاس عورت کا جنازہ لایا گیا تو آپ درمیان میں کھڑے ہوئے۔ علاء بن زیاد نے کہا اے ابو حمزہ کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کرتے تھے ؟ انھوں نے کہا جی ہاں اس کے بعد علاء بن زیاد ہماری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تم اچھی طرح اس بات کو یاد کرلو۔
تخریج : ابو داؤد فی الجنائز باب ٥٣‘ نمبر ٣١٩٤۔