hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2779

.

الطحاوي

2779
Al Tahawi
۲۷۷۹ : وَقَدْ حَدَّثَنِی الْقَاسِمُ بْنُ جَعْفَرٍ‘ قَالَ : ثَنَا زَیْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ‘ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بَشِیْرٍ‘ قَالَ : صَلَّیْتُ خَلْفَ الْأَسْوَدِ بْنِ یَزِیْدَ‘ وَہَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ‘ وَإِبْرَاہِیْمَ النَّخَعِیِّ‘ فَکَانُوْا یُکَبِّرُوْنَ عَلَی الْجَنَائِزِ أَرْبَعًا .قَالَ ہَمَّامٌ : وَجَمَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ النَّاسَ عَلٰی أَرْبَعٍ إِلَّا عَلٰی أَہْلِ بَدْرٍ‘ فَإِنَّہُمْ کَانُوْا یُکَبِّرُوْنَ عَلَیْہِمْ خَمْسًا‘ وَسَبْعًا‘ وَتِسْعًا .فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا إِنَّمَا کَانُوْا اجْتَمَعُوْا عَلَیْہِ مِنْ عَدَدِ التَّکْبِیْرِ الْأَرْبَعِ فِیْ عَہْدِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ إِنَّمَا کَانَ عَلٰی غَیْرِ أَہْلِ بَدْرٍ‘ وَتَرَکُوْا حُکْمَ أَہْلِ بَدْرٍ عَلٰی مَا فَوْقَ الْأَرْبَعِ .فَمَا رُوِیَ عَنْ زَیْدِ ابْنِ أَرْقَمَ‘ مِمَّا ذَکَرْنَا‘ إِنَّمَا ہُوَ لِأَنَّہٗ کَانَ ذَہَبَ إِلٰی ھٰذَا الْمَذْہَبِ‘ فِیْمَا نَرٰی، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ .
٢٧٧٩: سلیمان بن بشیر کہتے ہیں کہ میں نے اسود بن یزید ‘ ہمام بن حارث اور ابراہیم نخعی (رح) کے پیچھے نماز جنازہ ادا کی یہ سب چار تکبیر سے جنازہ ادا کرتے تھے۔ ہمام کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے اہل بدر کے علاوہ بقیہ امت پر نماز جنازہ کے لیے صحابہ کرام کو جمع کیا گویا اہل بدر اس عموم سے مستثنیٰ ہیں اصحاب بدر پر خصوصیت کے ساتھ پانچ ‘ سات ‘ نو تکبیرات بھی پڑھی گئی ہیں۔ مذکورہ روایات سے یہ دلالت مل گئی کہ صحابہ کرام (رض) سے عہد فاروقی (رض) میں اجماع کیا کہ تکبیرات چار ہیں اور یہ حکم کو چار سے زیادہ پر برقرار رکھا پس جو روایت ہم نے زید بن ارقم (رض) سے نقل کی ہے وہ اس لیے نقل کی ہے کہ انھوں نے یہی رخ اختیار کیا ہے۔ جیسا ہماری رائے ہے (واللہ اعلم)
حاصل روایات : ان روایات سے اہل بدر پر چار سے زائد تکبیرات کا ثبوت ملتا ہے جبکہ دیگر پر علی (رض) کا عمل بھی چار تکبیر پڑھنے کا تھا پس فاروق اعظم (رض) کے زمانے میں اہل بدر کے علاوہ دوسرے لوگوں کے جنازے پر چار تکبیر کا اتفاق ہوا تھا اور جن صحابہ کرام سے چار سے زائد تکبیرات منقول ہیں وہ بدر یّین صحابہ کی خصوصیت کی وجہ سے ہے فلہٰذا ان کے عمل سے اس اجماع پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اب زید بن ارقم اور حذیفہ بن یمان ] کی روایت کا آسان محمل نکل آیا اور چار تکبیر کا حکم ثابت رہا۔