hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2780

.

الطحاوي

2780
Al Tahawi
۲۷۸۰ : وَقَدْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ وَقَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ‘ قَالَ : أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا دَاوٗدَ بْنُ أَبِیْ ہِنْدٍ‘ عَنِ الشَّعْبِیِّ‘ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ‘ قَالَ : قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ‘ فَمَاتَ لَہُمْ مَیِّتٌ‘ فَکَبَّرُوْا عَلَیْہِ خَمْسًا‘ فَأَرَدْتُ أَنْ لَا أُحَیِیَّہُمْ‘ فَأَخْبَرَتِ ابْنَ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ فَقَالَ : لَیْسَ فِیْہِ شَیْء ٌ مَعْلُوْمٌ .فَھٰذَا یَحْتَمِلُ مَا ذَکَرْنَا فِی اخْتِلَافِ حُکْمِ الصَّلَاۃِ عَلَی الْبَدْرِیِّیْنَ‘ وَعَلٰی غَیْرِہِمْ .فَکَأَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ أَرَادَ بِقَوْلِہٖ (لَیْسَ فِیْہِ شَیْء ٌ مَعْلُوْمٌ) أَیْ لَیْسَ فِیْہِ شَیْء ٌ یُکَبَّرُ فِی الصَّلَاۃِ عَلَی النَّاسِ جَمِیْعًا‘ لَا یُجَاوَزُ إِلٰی غَیْرِہٖ۔ وَقَدْ رُوِیَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ بِغَیْرِ ھٰذَا اللَّفْظِ .
٢٧٨٠: شعبی نے علقمہ بن قیس سے روایت کی ہے کہ اہل شام میں سے کچھ لوگ آئے ان میں ایک آدمی کا انتقال ہوگیا انھوں نے اس کے نماز جنازہ میں پانچ تکبیرات کہیں میں نے چاہا کہ میں ان سے جھگڑوں تو میں نے ابن مسعود (رض) کو خبر دی تو انھوں نے کہا اس میں کوئی چیز مقرر نہیں۔ اس میں احتمال یہ ہے بدر یین کے متعلق نماز میں تکبیرات کا اختلاف اور اسی طرح غیر بدریین کے متعلق ایسا نہیں کہ جس سے دوسرے کی طرف تجاوز نہ ہوسکتا ہو۔ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں دوسروں کی تجاوز نہ کرسکتے ہوں بلکہ تمام لوگوں پر نماز میں تکبیر کہی جائے گی۔ یہ روایت دیگر الفاظ سے بھی مروی ہے ۔
لغات : الاحییہم۔ جھگڑنا۔
لیس فیہ شیء معلوم اس قول میں ایک احتمال یہ ہے کہ تکبیرات جنازہ میں بدریین اور غیر بدریین کے متعلق تعداد تکبیر کا اختلاف ہے اس لیے اس میں ایک ایسی مقررہ حد نہیں کہ جس کی خلاف ورزی درست نہ ہو۔
یہ روایت دوسری سند سے اس طرح ہے۔