۲۷۸ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا آدَم بْنُ أَبِیْ إِیَاسٍ قَالَ : ثَنَا عِیْسَی بْنُ مَیْمُوْنٍ ، قَالَ : ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، مِثْلَہٗ .قَالُوْا : فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ أَنَّہَا کَانَتْ تَفْرُکُ الْمَنِیَّ مِنْ ثَوْبِ الصَّلَاۃِ ، کَمَا تَفْرُکُہٗ مِنْ ثَوْبِ النَّوْمِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : وَلَیْسَ فِیْ ھٰذَا عِنْدَنَا دَلِیْلٌ عَلٰی طَہَارَتِہِ ، فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ کَانَتْ تَفْعَلُ بِہٖ ھٰذَا ، فَیَطْہُرُ بِذٰلِکَ الثَّوْبُ وَالْمَنِیُّ فِیْ نَفْسِہِ نَجَسٌ کَمَا قَدْ رُوِیَ فِیْمَا أَصَابَ النَّعْلَ مِنَ الْأَذَی .
٢٧٨ : قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ (رض) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ یہ آثار ظاہر کر رہے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نماز والے کپڑوں سے بھی منی کو اسی طرح کھرچ دیا کرتی تھیں جیسا کہ نیند والے لباس سے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں ان روایات میں ہمارے نزدیک کوئی ایک روایت بھی منی کی طہارت کو ثابت نہیں کرتی ‘ اس لیے کہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ اس طرح کھرچ دیتی ہوں کہ جس سے کپڑا پاک ہوجاتا ہو۔ رہی منی تو وہ نجس ہے جیسا کہ جوتے کو نجاست لگنے کے سلسلہ میں مروی ہے۔
تخریج : الطیاسی ١؍٢٠٢
خلاصہ روایات خمسہ :
ان روایات بالا سے معلوم ہوا کہ خشک منی کو کپڑے سے کھرچ دیا جائے تو کپڑا پاک ہوجاتا ہے اور اس میں نماز پڑھی جاسکتی ہے جیسا کہ نیند والے کپڑے پر منی لگ کر خشک ہوجائے تو اس کو بھی چھیل دینے سے کپڑا پاک ہوجائے گا اور نماز پڑھی جاسکے گی۔
اشکال : فریق اول کے علماء کہتے ہیں جب صرف کھرچنے پر اکتفا کر کے بغیر دھوئے آپ نماز پڑھ لیا کرتے تھے تو ثابت ہوا کہ منی پاک ہے۔
حل اشکال : ان روایات میں تو منی کے پاک ہونے کی دلیل نہیں ہے منی ناپاک ہے اسے پاک کرنے کے دو طریقے ہیں نمبر ایک دھو ڈالیں نمبر دو رگڑ کر اس کے آثار کو دور کردیا جائے اس کی نظیر جوتا ہے جس کو اذیٰ پہنچ جائے تو زمین پر رگڑنے سے وہ پاک ہوجائے گا پس روایات میں رگڑنے کا تذکرہ اس کا ثبوت نہیں کہ وہ منی پاک ہے جیسے کہ رگڑ کر جوتے کے پاک ہوجانے سے کوئی بھی گندگی کو پاک نہیں کہتا۔ اسی طرح ہم منی کے سلسلے میں عرض کریں گے کہ وہ فی نفسہ نجس ہو اور کپڑے سے اس کا ازالہ رگڑنے سے ہوجائے اور وہ کپڑا پاک شمار ہو۔
مس اذیٰ والی روایت اس طرح ہے۔