۲۷۹ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ قَالَ : ثَنَا الْأَوْزَاعِیُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِیْدِ ڑ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ( اِذَا وَطِیَٔ أَحَدُکُمَ الْأَذَیْ بِخُفِّہٖ ، أَوْ بِنَعْلِہِ ، فَطَہُوْرُہُمَا التُّرَابُ).قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَکَانَ ذٰلِکَ التُّرَابُ یُجْزِئُ عَنْ غَسْلِہِمَا، وَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی طَہَارَۃِ الْأَذَی فِیْ نَفْسِہِ .فَکَذٰلِکَ مَا رَوَیْنَا فِی الْمَنِیِّ ، یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ کَانَ حُکْمُہُ عِنْدَ ہُمَا کَذٰلِکَ یَطْہُرُ الثَّوْبُ بِإِزَالَتِہِمْ إِیَّاہُ عَنْہُ بِالْفَرْکِ وَہُوَ فِیْ نَفْسِہِ نَجَسٌ ، کَمَا کَانَ الْأَذَی یَطْہُرُ النَّعْلُ بِإِزَالَتِہِمْ إِیَّاہُ عَنْہَا ، وَہُوَ فِیْ نَفْسِہِ نَجَسٌ .فَاَلَّذِیْ وَقَفْنَا عَلَیْہِ مِنْ ھٰذِہِ الْآثَارِ الْمَرْوِیَّۃِ فِی الْمَنِیِّ ، ہُوَ أَنَّ الثَّوْبَ یَطْہُرُ مِمَّا أَصَابَہٗ مِنْ ذٰلِکَ بِالْفَرْکِ اِذَا کَانَ یَابِسًا وَیُجْزِیُٔ ذٰلِکَ مِنَ الْغُسْلِ وَلَیْسَ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ھٰذَا ، دَلِیْلٌ عَلَی حُکْمِہِ ہُوَ فِیْ نَفْسِہِ ، أَطَاہِرٌ ہُوَ أَمْ نَجَسٌ ؟ .فَذَہَبَ ذَاہِبٌ إِلَی أَنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّہٗ کَانَ - عِنْدَہَا - نَجَسًا ، وَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ۔
٢٧٩ : سعید مقبری حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا موزہ یا جوتا ایذاء (پائخانہ وغیرہ) سے ملوث ہوجائے تو مٹی ان کے لیے طہارت کا باعث ہے (مٹی سے رگڑے جانے کے بعد پاک ہوجائیں گے) امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ مٹی ان دونوں کو دھونے کے بجائے خود پاک کرتی ہے۔ اس میں بذات خود نجاست کے پاک ہونے کی تو کوئی دلیل نہیں ہے۔ اسی طرح جو کچھ ہم نے منی کے متعلق نقل کیا ہے ‘ ممکن ہے کہ ان کے ہاں اس کا حکم بھی اسی طرح ہو کہ اسے کھرچ کر دور کردینے سے کپڑا پاک ہوجاتا ہے لیکن بذات خود وہ ناپاک ہے جس طرح جوتے سے نجاست کا ازالہ کردیا جائے تو وہ پاک ہوجاتا ہے حالانکہ نجاست بذات نجس و ناپاک ہی ہو۔ ہمیں ان آثار مرویہ سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ منی اگر کپڑے کو لگ جائے تو کپڑے کو اس سے پاک کرنے کا ایک طریقہ کھرچنا بھی ہے جبکہ منی خشک ہوجائے اور یہ چیز اس کے دھونے کی بجائے کفایت کر جائے گی۔ ان میں سے کسی بھی روایت میں ذاتی لحاظ سے منی کا حکم موجود نہیں کہ وہ پاک ہے یا ناپاک۔ چنانچہ اس کی نجاست کی طرف جانے والے علماء نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے ایسی روایت بیان کی ہے جو ان کے ہاں اس کے نجس ہونے کو ثابت کرتی ہے ‘ روایت ملاحظہ ہو۔
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ١٣٧‘ روایت ٣٨٥
مٹی سے موزے وغیرہ کا بغیر دھوئے پاک ہوجانا پائخانہ کی طہارت کی دلیل نہیں اسی طرح منی سے بغیر دھوئے صرف رگڑ سے کپڑے کا پاک ہونا اس کی طہارت کی دلیل نہیں بن سکتی۔
حاصل کلام : یہ ہے کہ روایات بالا سے منی کے طاہر یا نجس ہونے کا کوئی حکم بھی معلوم نہیں ہوتا۔