hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2810

.

الطحاوي

2810
Al Tahawi
۲۸۱۰ : فَإِذَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَدْ حَدَّثَنَا‘ قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ‘ قَالَ : أَنَا أُسَامَۃُ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ یَوْمَ أُحُدٍ بِحَمْزَۃَ‘ وَقَدْ جُدِعَ وَمُثِّلَ بِہِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَجْزَعَ صَفِیَّۃُ لَتَرَکْتُہٗ حَتّٰی یَحْشُرَہُ اللّٰہُ مِنْ بُطُوْنِ الطَّیْرِ وَالسِّبَاعِ .فَکَفَّنَہٗ فِیْ نَمِرَۃٍ‘ اِذَا خَمَّرَ رَأْسَہٗ بَدَتْ رِجْلَاہُ‘ وَإِذَا خَمَّرَ رِجْلَیْہِ بَدَا رَأْسُہُ‘ فَخَمَّرَ رَأْسَہٗ‘ وَلَمْ یُصَلِّ عَلٰی أَحَدٍ مِنَ الشُّہَدَائِ غَیْرَہٗ وَقَالَ أَنَا شَہِیْدٌ عَلَیْکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ لَمْ یُصَلِّ یَوْمَئِذٍ‘ عَلٰی أَحَدٍ مِنَ الشُّہَدَائِ غَیْرَ حَمْزَۃَ‘ فَإِنَّہٗ صَلّٰی عَلَیْہِ‘ وَہُوَ أَفْضَلُ شُہَدَائِ (أُحُدٍ) .فَلَوْ کَانَ مِنْ سُنَّۃِ الشُّہَدَائِ أَنْ لَا یُّصَلِّیْ عَلَیْہِمْ‘ لَمَا صَلّٰی عَلٰی حَمْزَۃَ‘ کَمَا لَمْ یُغَسِّلْہُ‘ اِذْ کَانَ مِنْ سُنَّۃِ الشُّہَدَائِ أَنْ لَا یُغَسَّلُوْا .وَصَارَ مَا فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ صَلّٰی عَلٰی حَمْزَۃَ‘ وَلَمْ یُصَلِّ عَلٰی غَیْرِہٖ۔ فَھٰذَا یَحْتَمِلُ أَنْ یَّکُوْنَ لَمْ یُصَلِّ عَلَی غَیْرِہِ‘ لِشِدَّۃِ مَا بِہٖ مِمَّا ذَکَرْنَا‘ وَصَلّٰی عَلَیْہِمْ غَیْرُہٗ مِنَ النَّاسِ .وَقَدْ جَائَ فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّیْ یَوْمَئِذٍ‘ عَلٰی حَمْزَۃَ‘ وَعَلٰی سَائِرِ الشُّہَدَائِ .
٢٨١٠: عثمان بن عمر نے اپنی سند سے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر میدان احد میں حمزہ (رض) کے جسد کے پاس سے ہوا ان کے ناک ‘ کان ہونٹ کاٹ کر ان کا مثلہ کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا اگر مجھے صفیہ کی گھبراہٹ کا خطرہ نہ ہوتا تو میں اس کو اسی طرح چھوڑتا یہاں تک کہ پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے ان کا حشر ہوتا آپ نے حمزہ (رض) کو دھاری دار چادر سے کفن دیا جس سے سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں ظاہر ہوجاتے اور جب پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر ظاہر ہوجاتا ان کے سر کو ڈھانپ دیا گیا اور ان کے علاوہ کسی اور شہید احد پر آپ نے نماز جنازہ نہ پڑھی اور فرمایا میں قیامت کے دن تمہارا گواہ ہوں گا۔ یہ ابن عباس اور ابن زبیر (رض) ہیں دونوں حضرت انس (رض) کی مذکورہ روایت کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسی طرح کی روایت حضرت ابو مالک غفاری (رض) سے بھی مروی ہے ۔
تخریج : ابو داؤد فی الجنائز باب ٢٧‘ نمبر ٣١٣٦‘ ترمذی فی الجنائز باب ٣١‘ نمبر ١٠١٦۔
حاصل روایات : اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمزہ (رض) کے علاوہ کسی احد کے شہید پر نماز جنازہ نہیں پڑھی مگر ان پر پڑھی اور حمزہ شہداء احد میں سب سے زیادہ فضیلت والے ہیں اگر شہید کی نماز جنازہ نہیں تھی تو آپ حمزہ (رض) پر نماز نہ پڑھتے جیسا کہ ان کو غسل نہ دیا گیا کیونکہ غسل نہ دینا یہ سنت شہداء تو ہے اب آپ کا ان پر نماز پڑھنا اور دوسروں پر نہ پڑھنا یہ احتمال رکھتا ہے۔
احتمال نمبر 1: آپ کو زخموں کی وجہ سے دوسروں پر نماز پڑھنے کی تاب نہ تھی اس لیے صحابہ کرام نے دیگر تمام پر نماز جنازہ پڑھی۔
حالانکہ دیگر روایات حدیث یہ ثابت کرتی ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمزہ (رض) اور تمام شہداء احد پر نماز جنازہ پڑھی ہے۔ روایات ملاحظہ ہو۔