hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2809

.

الطحاوي

2809
Al Tahawi
۲۸۰۹ : وَقَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : ثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ حَدَّثَہٗ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَہٗ أَنَّ شُہَدَائَ أُحُدٍ‘ لَمْ یُغَسَّلُوْا‘ وَدُفِنُوْا بِدِمَائِہِمْ‘ وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِمْ .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ مَا یَنْفِی الصَّلَاۃَ عَلَیْہِمْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمِنْ غَیْرِہٖ۔ فَنَظَرْنَا فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ کَیْفَ ہُوَ ؟ وَہَلْ زِیْدَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ فِیْہِ شَیْء ٌ؟
٢٨٠٩: ابن وہب نے اپنی سند سے انس بن مالک (رض) سے نقل کیا ہے کہ شہداء احد کو غسل نہ دیا گیا بلکہ ان کے خون سمیت ان کو دفن کردیا گیا اور ان پر نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی گئی۔ اس روایت میں مذکور ہے کہ آپ نے ان میں سے کسی پر نماز جنازہ نہیں پڑھی صرف حضرت حمزہ (رض) پر پڑھی اور ان پر اس لیے پڑھی کیونکہ وہ شہداء احد میں سب سے افضل تھے ۔ پس اگر شہداء کے متعلق طریقہ جنازہ نہ پڑھنے کا ہوتا تو آپ حمزہ (رض) پر بھی جنازہ نہ پڑھتے جیسا کہ ان کو غسل نہ دیا تھا ۔ اس لیے کہ شہداء کے متعلق طریقہ یہی تھا کہ ان کو غسل نہ دیا جاتا تھا ۔ اس روایت یہ جو کچھ ہے کہ حضرت حمرزہ (رض) پر نماز جنازہ پڑھی دوسروں پر نہ پڑھی ۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ زخموں اور تکلیف کی شدت کی وجہ سے ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی اور دیگر لوگوں نے ان پر نماز جنازہ پڑھی ۔ حالانکہ یہ روایات میں وارد ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حمزہ (رض) اور تمام شہداء پر نماز جنازہ پڑھی۔
تخریج : بخاری فی الجنائز ٧٢؍٧٤‘ المغازی باب ٢٦‘ ابو داؤد فی الجنائز باب ٢٧‘ نمبر ٣١٣٥‘ ترمذی فی الجنائز باب ٤٦‘ نمبر ١٠٣٦‘ نسائی فی الجنائز باب ٦٢‘ الجہاد باب ٢٧‘ ابن ماجہ فی الجنائز باب ٢٨‘ مسند احمد ١؍٢٤٧‘ ٥؍٤٣١۔
بظاہراً یہ روایت فریق اوّل کی واضح دلیل ہے کہ ان پر نماز جنازہ نہیں مگر اس کے متعلق ہم عرض کرتے ہیں کہ اس روایت کو ابن وہب کے علاوہ دیگر روات نے اس کو کس طرح نقل کیا ہے تاکہ بات کھل جائے۔