۲۸۲۱ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مَعْمَرٍ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ‘ قَالَ : ثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ یَسَارٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُثْمَانُ بْنُ جِحَاشٍ‘ وَکَانَ ابْنَ أَخِیْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ‘ قَالَ : مَاتَ ابْنٌ لِسَمُرَۃَ‘ قَدْ کَانَ سُقِیَ‘ فَسَمِعَ بُکَائً ‘ فَقَالَ : (مَا ھٰذَا؟) فَقَالُوْا عَلٰی فُلَانٍ مَاتَ‘ فَنَہٰی عَنْ ذٰلِکَ‘ ثُمَّ دَعَا بِطَسْتٍ وَنَقِیْرٍ فَغَسَلَ بَیْنَ یَدَیْہٖ‘ وَکَفَّنَ بَیْنَ یَدَیْہِ‘ ثُمَّ قَالَ لِمَوْلَاہُ فُلَانٍ : انْطَلِقْ بِہٖ إِلٰی حُفْرَتِہٖ‘ فَإِذَا وَضَعْتُہٗ فِیْ لَحْدِہٖ، فَقُلْ : بِسْمِ اللّٰہِ وَعَلَی سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَطْلِقْ عُقَدَ رَأْسِہٖ وَعُقَدَ رِجْلَیْہِ‘ وَقُلْ : " اللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَہُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہٗ " قَالَ : وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ .
٢٨٢١: عثمان بن جحاش یہ سمرہ بن جندب کے بھتیجے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ سمرہ کا ایک بیٹا فوت ہوگیا جس نے پانی کا گھونٹ پیا تھا سمرہ نے رونے کی آواز سنی تو پوچھا یہ آواز کیسی ہے انھوں نے کہا یہ فلاں پر رونے کی آواز ہے جس کی وفات ہوگئی آپ نے اس زور والی آواز سے منع کردیا پھر ایک تھال یا لکڑی کا برتن منگوایا اور اپنے سامنے اس کو غسل دلایا پھر ان کے سامنے کفن دیا گیا پھر اپنی لونڈی کو فرمایا اس کو اس کی قبر کی طرف لے جاؤ جب لحد میں رکھو تو کہنا : بسم اللہ وعلی سنۃ رسول اللہ ا : پھر اس کے سر کی اور پاؤں کی گرہ گھول دینا اور اس طرح کہنا : اللہم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ۔ عثمان کہتے ہیں کہ انھوں نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔