hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2822

.

الطحاوي

2822
Al Tahawi
۲۸۲۲ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ یَعْنِیْ عَنْ خِلَاسٍ‘ عَنِ ابْنِ جِحَاشٍ‘ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ‘ أَنَّ صَبِیًّا لَہٗ مَاتَ‘ فَقَالَ : اِدْفِنُوْہُ وَلَا تُصَلُّوْا عَلَیْہٖ‘ فَإِنَّہٗ لَیْسَ عَلَیْہِ إِثْمٌ‘ ثُمَّ اُدْعُوْا اللّٰہَ لِأَبَوَیْہِ أَنْ یَجْعَلَہٗ لَہُمَا فَرَطًا وَسَلَفًا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : بَلْ یُّصَلِّیْ عَلَی الطِّفْلِ . وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا۔
٢٨٢٢: ابن جحاش نے سمرہ بن جندب (رض) سے نقل کیا کہ ان کا ایک بچہ فوت ہوگیا تو انھوں نے کہا اس کو دفن کر دو اور اس پر نماز جنازہ مت پڑھو یہ بےگناہ ہے پھر اس کے والدین کے لیے دعا کرنا کہ وہ اس کو ان کا استقبالی اور ذخیرہ بنائے۔ اور دیگر علماء نے ان کی مخالفت کی ہے اور فرمایا بلکہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے ان کا استدلال اس طرح ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نابالغ بچوں پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے بلکہ اس کے بغیر دفن کردیا جائے گا۔
فریق ثانی کا مؤقف :
نابالغ بچے پر نماز جنازہ اسی طرح پڑھی جائے گی جیسے بالغ پر پڑھی جاتی ہے البتہ اس میں آثار زندگی کا وجود ضروری ہے اس کی تائید مندرجہ روایات سے ہے۔