۲۸۲۴ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ‘ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ‘ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ‘ عَنْ أَبِیْہِ (أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ دَعَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی عُمَیْرِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ‘ حِیْن تُوُفِّیَ فَأَتَاہُمْ فَصَلّٰی عَلَیْہٖ‘ فَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَانَ أَبُوْ طَلْحَۃَ وَرَائَ ہٗ، وَأُمُّ سُلَیْمٍ وَرَائَ أَبِیْ طَلْحَۃَ لَمْ یَکُنْ مَعَہُمْ غَیْرُہُمْ) ، وَإِنَّمَا کَانَ تَزَوُّجُ أَبِیْ طَلْحَۃَ وَأُمِّ سُلَیْمٍ بَعْدَ قُدُوْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَۃَ بِمُدَّۃٍ‘ وَعُمَیْرٌ وَلَدُہٗ مِنْہَا فِیْ ذٰلِکَ النِّکَاحِ‘ تُوُفِّیَ وَہُوَ طِفْلٌ‘ فَھٰذَا أَخُوْہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِیْ طَلْحَۃَ یَذْکُرُ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی عَلَیْہِ) .
٢٨٢٤: اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ابو طلحہ (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عمیر بن ابی طلحہ پر نماز جنازہ کے لیے بلایا جب اس کی وفات ہوگئی آپ تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے ابو طلحہ آپ پیچھے تھے اور امّ سلیم ابو طلحہ کے پیچھے تھیں ان کے ساتھ اور کوئی شامل نہ تھا ابو طلحہ نے امّ سلیم سے شادی اس وقت کی جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ منورہ آئے کچھ وقت گزر گیا اور یہ عمیر اسی نکاح کے بعد پیدا ہوئے اور بچپن میں وفات پا گئے یہ ان کا بھائی عبداللہ بیان کررہا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمیر کی نماز جنازہ پڑھی۔