۲۸۲۳ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی بْنِ طَلْحَۃَ‘ عَنْ عَمَّتِہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ‘ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : (جَائَ تِ الْأَنْصَارُ بِصَبِیٍّ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَقُلْتُ : وَقِیْلَ لَہٗ : ہَنِیئًا لَہٗ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ لَمْ یَعْمَلْ سُوئً ا قَطُّ‘ وَلَمْ یُدْرِکْہُ‘ عُصْفُوْرٌ مِنْ عَصَافِیْرِ الْجَنَّۃِ .فَقَالَ : أَوْ غَیْرُ ذٰلِکَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ الْجَنَّۃَ‘ خَلَقَ لَہَا أَہْلًا وَہُمْ فِیْ أَصْلَابِ آبَائِہِمْ وَخَلَقَ النَّارَ‘ وَخَلَقَ لَہَا أَہْلًا وَہُمْ فِیْ أَصْلَابِ آبَائِہِمْ) .
٢٨٢٣: عائشہ بنت طلحہ نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ انصار ایک بچے کو آپ کی خدمت میں لائے تاکہ اس پر جنازہ پڑھا جائے میں نے کہا یا اس کو کہا گیا خوش نصیب ہے کہ اس نے کوئی برا عمل نہیں کیا اور نہ برے عمل کو پایا یہ جنت کی چڑیا ہے آپ نے فرمایا کیا کچھ اور بھی۔ اللہ تعالیٰ نے جب جنت بنائی اور جنت کے اندر رہنے والے بنائے جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور آگ کو بنایا اور آگے والے لوگ بنائے جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی اصلاب میں تھے۔
تخریج : مسلم فی القدر ٣٠‘ ٣١‘ نسائی فی الجنائز باب ٥٨‘ ابن ماجہ فی المقدمۃ باب ١٠‘ مسند احمد ٦؍٤١‘ ٢٠٨۔