۲۸۳۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ‘ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَلّٰی عَلٰی مَنْفُوْسٍ لَمْ یَعْمَلْ خَطِیْئَۃً قَطُّ‘ فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ (اَللّٰہُمَّ أَعِذْہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ)
٢٨٣٢: یحییٰ بن سعید بن المسیّب نے ابوہریرہ (رض) کے متعلق نقل کیا کہ انھوں نے اس جان (نابالغ بچے) پر نماز جنازہ پڑھی جس نے کبھی غلطی نہ کی تھی میں نے سنا کہ وہ اس طرح دعا کر رہے ہیں : اللّٰھم اعذہ من عذاب القبر۔
تخریج : بیہقی ٤؍١٥۔
حاصل آثار : ان روایات سے صحابہ کرام کا نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔
نوٹ : فصل اول کی روایات حضرت عائشہ (رض) اور سمرہ بن جندب (رض) سے مروی ہیں جبکہ فصل ثانی میں حضرت عائشہ ‘ عبداللہ بن ابی طلحہ ‘ براء بن عازب ‘ مغیرہ بن شعبہ ] کی روایات جنازہ کی نماز کو ثابت کرنے والی ہیں نفی والی روایات مضمون کے اعتبار سے غیر مفصل ہیں جبکہ فصل ثانی کی روایات صریح ہیں نیز تابعین کے آثار اور صحابہ کرام کے اقوال و اعمال سے بھی فصل ثانی کی روایات کا مضمون ثابت ہوتا ہے۔ نظر سے بھی اسی کی معاونت ملتی ہے پس بچے پر نماز جنازہ کا ثبوت بےغبار ہوگیا۔