۲۸۳۳ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ الطَّیَالِسِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ قَالَ : ثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ‘ قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ سَمِیْرٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ بَشِیْرُ بْنُ نَہِیْکٍ‘ عَنْ بَشِیْرِ بْنِ الْخَصَاصِیَۃِ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأٰی رَجُلًا یَمْشِیْ بَیْنَ الْقُبُوْرِ فِیْ نَعْلَیْنِ‘ فَقَالَ : وَیْحَکَ یَا صَاحِبَ السِّبْتِیَّتَیْنِ أَلْقِ سِبْتِیَّتَیْکَ) .
٢٨٣٣: بشیر بن نہیک نے بشیر بن خصاصیہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جوتوں سمیت قبور کے درمیان چل رہا تھا تو آپ نے فرمایا تیرا ناس ہو اسے سبتی نعل والے اپنے جوتے کو اتار دے۔
تخریج : ابو داؤد فی الجنائز باب ٧٤‘ نمبر ٣٢٣٠‘ نسائی فی الجنائز باب ١٠٧‘ ابن ماجہ فی الجنائز باب ٤٦‘ مسند احمد ٥؍٨٣‘ ٨٤‘ نمبر ٢٢٤۔
قبرستان میں جوتوں سمیت چلنے کو امام احمد (رح) اور ظاہریہ نے ممنوع و مکروہ قرار دیا " اور امام ابوحنیفہ ‘ مالک و شافعی رحمہم اللہ کے ہاں اس میں کوئی کراہت نہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل : قبرستان میں جوتے سمیت نہ چلنا چاہیے یہ ممنوع اور سخت مکروہ ہے دلیل یہ روایت ہے۔