۲۸۳۷ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَیْدٍ‘ قَالَ : ثَنَا وَکِیْعٌ‘ عَنْ سُفْیَانَ‘ عَنِ السُّدِّیِّ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ رَفَعَہُ .مِثْلَہٗ .فَھٰذَا یُعَارِضُ الْحَدِیْثَ الْأَوَّلَ‘ اِذَا کَانَ مَعْنَاہُ‘ عَلٰی مَا حَمَلَہٗ عَلَیْہِ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی .وَلٰـکِنَّا لَا نَحْمِلُہٗ عَلَی الْمُعَارَضَۃِ‘ وَنَجْعَلُ الْحَدِیْثَیْنِ صَحِیْحَیْنِ‘ فَنَجْعَلُ النَّہْیَ الَّذِیْ کَانَ فِیْ حَدِیْثِ بَشِیْرٍ‘ لِلنَّجَاسَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ فِی النَّعْلَیْنِ‘ لِئَلَّا یُنَجِّسَ الْقُبُوْرَ‘ کَمَا قَدْ نُہِیَ أَنْ یُتَغَوَّطَ عَلَیْہَا‘ أَوْ یُبَالَ .وَحَدِیْثُ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَدُلُّ عَلَی اِبَاحَۃِ الْمَشْیِ بِالنِّعَالِ الَّتِیْ لَا قَذَرَ فِیْہَا بَیْنَ الْقُبُوْرِ .فَھٰذَا وَجْہُ ھٰذَا الْبَابِ‘ مِنْ طَرِیْقِ تَصْحِیْحِ مَعَانِی الْآثَارِ .وَقَدْ جَائَ تِ الْآثَارُ مُتَوَاتِرَۃً عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا قَدْ ذَکَرْنَا عَنْہُ‘ مِنْ صَلَاتِہٖ فِیْ نَعْلَیْہٖ‘ وَمِنْ خَلْعِہِ إِیَّاہُمْ فِیْ وَقْتِ مَا خَلَعَہُمَا لِلنَّجَاسَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ فِیْہِمَا‘ وَمِنْ اِبَاحَۃِ النَّاسِ الصَّلَاۃَ فِی النِّعَالِ.
٢٨٣٧: سدی نے اپنے والد سے انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ یہ روایت پہلی روایت کے معارض ہے جب کہ اس کا معنیٰ وہی لیا جائے جو قول اول کے قائلین نے اختیار کیا ہے۔ مگر ہم اس کو معارضہ پر محمول نہیں کرتے بلکہ دونوں روایات کو درست قرار دیتے ہیں۔ پس بشیر (رض) والی روایت کو نعلین کو گندگی سے ملوث ہونے کی حالت پر محمول کرتے ہیں تاکہ قبرستان میں نجاست نہ پھیلے جیسا کہ قبرستان میں بول و براز سے منع کیا گیا ہے اور حضرت ابوہریرہ (رض) والی روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صاف جوتوں کے ساتھ قبرستان میں جایا جاسکتا ہے۔ آثار کے معانی کی تصحیح کی یہی صورت ہے اور نعلین میں نماز پڑھنے سے متعلق جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کثیر روایات وارد ہوئی ہیں اور آپ کا ان کو اتارنا اس نعلین کے ساتھ لگنے والی نجاست کی وجہ سے تھا ورنہ نعلین پاک میں نماز مباح ہے مندرجہ روایات کو ملاحظہ کریں۔
حاصل روایات : یہ روایات پہلی روایات کے معارض ہیں جبکہ ان روایات کا مفہوم وہ لیا جائے جو فریق اوّل نے کہا ہے اور اگر دونوں احادیث میں تطبیق دی جائے کہ حضرت بشیر (رض) والی روایت میں ممانعت کو ان لوگوں سے متعلق کیا جائے جن کے جوتے میں نجاست لگی ہو تاکہ اس سے قبور ملوث نہ ہوں جیسا کہ قبور پر پیشاب و پائخانہ سے منع کیا گیا ہے اور روایت ابوہریرہ (رض) کو صاف جوتے کے ساتھ چلنے کی اباحت پر محمول کیا جائے۔
آثار کے معانی کو سامنے رکھ کر یہ بات ہم نے ذکر کردی۔