۲۸۳۸ : فَمِنْ ذٰلِکَ مَا قَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ غَسَّانَ : قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حَمْزَۃَ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنْ عَلْقَمَۃَ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ‘ قَالَ : (خَلَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَعْلَیْہٖ‘ وَہُوَ یُصَلِّیْ‘ فَخَلَعَ مَنْ خَلْفَہٗ فَقَالَ مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی خَلْعِ نِعَالِکُمْ؟ قَالُوْا : رَأَیْنَاکَ خَلَعْتُ فَخَلَعْنَا .فَقَالَ إِنَّ جَبْرَائِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَخْبَرَنِیْ أَنَّ فِیْ أَحَدِہِمَا قَذَرًا‘ فَخَلَعْتُہُمَا لِذٰلِکَ‘ فَلاَ تَخْلَعُوْا نِعَالَکُمْ) .
٢٨٣٨: علقمہ نے عبداللہ (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں جوتے نماز کے دوران اتار دیئے تو صحابہ کرام نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے۔ (نماز کے بعد) آپ نے فرمایا تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے ؟ انھوں نے عرض کیا ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیئے آپ نے فرمایا مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے بتلایا کہ میرے ایک جوتے کے ساتھ نجاست لگی ہے تو میں نے دونوں اس وجہ سے اتار دیئے (کہ معلوم نہیں کہ کون سے جوتے کے ساتھ نجاست ہے) تم اپنے جوتے مت اتارو یعنی تمہیں اپنے جوتے نہ اتارنے چاہیے تھے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٨٨‘ نمبر ٦٥٠‘ مسند احمد ٣؍٩٢۔