۲۸۴ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ أَنَا حُصَیْنٌ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیْہِ ، أَنَّہٗ کَانَ یَفْرُکُ الْجَنَابَۃَ مِنْ ثَوْبِہٖ .فَھٰذَا یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ ، کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ لِأَنَّہُ - عِنْدَہُ - طَاہِرٌ .وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ کَمَا یُفْعَلُ بِالرَّوْثِ الْمَحْکُوْمِ مِنَ النَّعْلِ لَا لِأَنَّہُ - عِنْدَہُ - طَاہِرٌ .
٢٨٤ : مصعب اپنے والد سعد (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اپنے کپڑے سے جنابت کو کھرچ دیتے تھے۔ اس عمل میں یہ بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے کپڑے سے اس کو اس لیے کھرچتے تھے اور وہ ان کے ہاں طاہر ہے اور ان کے فعل میں یہ بھی احتمال ہے کہ وہ جوتے سے لگے ہوئے گوبر کو زمین پر رگڑ دینے کی طرح خیال کرتے ہیں۔ اس بناء پر نہیں کہ وہ ان کے ہاں پاک ہے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الطھارۃ ١؍٨٤
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں :
اس روایت میں دو احتمال ہیں نمبر ١: منی کو وہ کھرچ ڈالتے دھونے کی ضرورت نہ خیال کرتے تھے کیونکہ یایھا الذین امنوا اب جب کہ وہ ان کے ہاں پاک تھی۔ نمبر ٢: یہ بھی احتمال ہے کہ وہ نجس خیال کرتے ہوں مگر جس طرح گوبر جوتے پر لگ جائے تو زمین پر رگڑنے سے وہ پاک ہو اسی طرح منی سے کپڑا بھی کھرچنے سے پاک ہوجاتا ہے۔