۲۸۵ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّہٗ اعْتَمَرَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی رَکْبٍ ، فِیْہِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، وَأَنَّ عُمَرَ عَرَّسَ بِبَعْضِ الطَّرِیْقِ ، قَرِیْبًا مِنْ بَعْضِ الْمِیَاہِ .فَاحْتَلَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَقَدْ کَادَ أَنْ یُصْبِحَ ، فَلَمْ یَجِدْ مَائً فِی الرَّکْبِ ، فَرَکِبَ حَتّٰی جَائَ الْمَائَ ، فَجَعَلَ یَغْسِلُ مَا رَأَی مِنَ الِاحْتِلَامِ ، حَتّٰی أَسْفَرَ .فَقَالَ لَہٗ عَمْرٌو : أَصْبَحْتُ ، وَمَعَنَا ثِیَابٌ ، فَدَعْ ثَوْبَکَ ، فَقَالَ عُمَرُ : بَلْ أَغْسِلُ مَا رَأَیْتُ وَأَنْضَحُ مَا لَمْ أَرَہٗ.
٢٨٥ : یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) کے ساتھ عمرہ کیا اس قافلے میں حضرت عمرو بن العاص (رض) بھی تھے ۔ حضرت عمر (رض) نے ایک پانی کے قریب رات کے پچھلے حصہ میں قیام کیا حضرت عمر (رض) کو احتلام ہوگیا صبح قریب ہوگئی قافلے میں پانی موجود نہ تھا پس آپ سوار ہو کر پانی کے پاس آئے پس احتلام کے اثر کو اپنے کپڑے سے دھونے لگے یہاں تک کہ سپیدا ہوگیا عمر (رض) کہنے لگے آپ نے صبح کردی ہمارے پاس کپڑے ہیں (وہ لے لیں) اور اپنے کپڑے کو (فی الحال) رہنے دیں تو عمر (رض) نے کہا میں احتلام کا جو اثر نظر آتا ہے اس کو دھوتا ہوں اور جو نظر نہیں آتا (محض شبہ پڑتا ہے) وہاں پانی چھڑکتا ہوں (تاکہ وسوسہ نہ ہو)
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الطھارۃ ١؍٨٣‘ عبدالرزاق ١؍٣٧٠