۲۸۵۷ : وَکَمَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا الْحِمَّانِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ‘ عَنْ ثَابِتٍ‘ عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ دَخَلَ الْمَقْبَرَۃَ فَصَلّٰی عَلٰی رَجُلٍ بَعْدَمَا دُفِنَ وَقَالَ : مُلِئَتْ ھٰذِہِ الْمَقْبَرَۃُ نُوْرًا بَعْدَ أَنْ کَانَتْ مُظْلِمَۃً عَلَیْہِ) .فَیَکُوْنُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَادَ بِنَہْیِہِ عَنْ دَفْنِ الْمَوْتٰی فِی اللَّیْلِ‘ لِیَکُوْنَ ہُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْہِمْ‘ فَیُصِیْبُوْنَ بِصَلَاتِہِ مَا وَصَفْنَا مِنَ الْفَصْلِ .وَقَدْ قِیْلَ : إِنَّہٗ إِنَّمَا نَہٰی عَنْ ذٰلِکَ لِمَعْنًی غَیْرِ ھٰذَا .
٢٨٥٧: ابو رافع نے ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے آپ قبرستان میں داخل ہوئے اور وہاں ایک آدمی کی قبر پر دفن کے بعد نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا یہ قبر اس کے لیے روشنی سے بھر دی گئی اس سے پہلے وہ اندھیر تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو رات کے وقت مردوں کو دفن سے اس لیے منع فرمایا تاکہ آپ خود ان پر جنازہ پڑھیں اور آپ کے نماز پڑھنے سے ان کو سعادت میسر ہو اور یہ بھی کیا گیا کہ یہ ممانعت دفن کسی اور وجہ سے تھی۔
تخریج : مسلم فی الجنائز نمبر ٧١۔
حاصل روایات : اس سے ثابت ہوگیا کہ ممانعت رات کے وقت دفن کی اس لیے فرمائی تاکہ کوئی میت آپ کی نماز جنازہ سے محروم نہ رہ جائے اور اس نماز جنازہ سے ان کو خوش نصیبی میسر ہو۔
جواب نمبر 2: کچھ لوگ اپنی اموات کو اچھی طرح کفن نہ دیتے تھے اور رات کو جیسے کیسے ہوتا دفن کردیتے تو آپ نے رات کے وقت دفن کی ممانعت فرما دی تاکہ ان لوگوں کی غلط حرکت کا خاتمہ ہو۔ جیسا کہ اس روایت میں ہے۔