۲۸۵۸ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُمْرَانَ‘ عَنْ أَشْعَثَ‘ عَنِ الْحَسَنِ‘ (أَنَّ قَوْمًا کَانُوْا یُسِیْئُوْنَ أَکْفَانَ مَوْتَاہُمْ‘ فَیَدْفِنُوْنَہُمْ لَیْلًا‘ فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ دَفْنِ اللَّیْلِ) .فَأَخْبَرَ الْحَسَنُ أَنَّ النَّہْیَ عَنِ الدَّفْنِ لَیْلًا إِنَّمَا کَانَ لِھٰذِہِ الْعِلَّۃِ‘ لَا لِأَنَّ اللَّیْلَ یُکْرَہُ الدَّفْنُ فِیْہِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ نَحْوًا مِنْ ذٰلِکَ .
٢٨٥٨: اشعث نے حسن (رح) سے روایت کی کہ کچھ لوگ اپنے اموات کے کفن اچھے طریقہ سے نہ دیتے تھے اور اسی طرح میت کو رات کے وقت دفن کر کے پیچھا چھڑاتے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کی تدفین سے ممانعت کردی۔ حسن (رح) نے بتلایا کہ رات کے وقت دفن سے ممانعت اس وجہ سے تھی اس بناء پر نہیں کہ رات کو دفن میں کچھ کراہت ہے اور جابر بن عبداللہ (رض) سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔
حاصل روایات : کہ رات کو تدفین کی ممانعت کا سبب یہ تھا اس وجہ سے نہیں کہ رات کو تدفین ممنوع و مکروہ ہے۔