۲۸۶ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ زَیْدِ بْنِ الصَّلْتِ أَنَّہٗ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَی الْجَرْفِ فَنَظَرَ ، فَإِذَا ہُوَ قَدْ احْتَلَمَ وَلَمْ یَغْتَسِلْ فَقَالَ : وَاللّٰہِ مَا أَرَانِیْ إِلَّا قَدْ احْتَلَمْتُ ، وَمَا شَعَرْتُ ، وَصَلَّیْت وَمَا اغْتَسَلْتُ ، فَاغْتَسَلَ ، وَغَسَلَ مَا رَأَی فِیْ ثَوْبِہٖ وَنَضَحَ مَا لَمْ یَرَہٗ .فَأَمَّا مَا رَوَی یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عُمَرَ ، فَہُوَ یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ عُمَرَ فَعَلَ مَا لَا بُدَّ لَہٗ مِنْہُ ، لِضِیْقِ وَقْتِ الصَّلَاۃِ وَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَیْہِ أَحَدٌ مِمَّنْ کَانَ مَعَہُ ، فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَی مُتَابَعَتِہِمْ إِیَّاہُ عَلٰی مَا رَأَی مِنْ ذٰلِکَ .وَأَمَّا قَوْلُہُ " وَأَنْضَحُ مَا لَمْ أَرَہُ بِالْمَائِ " فَإِنَّ ذٰلِکَ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ بِہٖ " وَأَنْضَحُ مَا لَمْ أَرَ مِمَّا أَتَوَہَّمُ أَنَّہٗ أَصَابَہُ ، وَلَا أَتَیَقَّنُ ذٰلِکَ " حَتّٰی یَقْطَعَ ذٰلِکَ عَنْہُ الشَّکَّ فِیْمَا یُسْتَأْنَفُ وَیَقُوْلُ : ھٰذَا الْبَلَلُ مِنَ الْمَائِ .
٢٨٦: زید بن ا ّ لصلت کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مقام جرف کی طرف گیا آپ نے اپنے کپڑے کو دیکھا تو احتلام کا اثر نظر آیا حالانکہ آپ نے غسل نہ کیا تھا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے احتلام ہوگیا ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوا اور میں نے نماز پڑھ لی حالانکہ میں نے غسل نہ کیا تھا پس آپ نے غسل کیا اور کپڑے پر جہاں احتلام کا اثر نظر آیا اس کو دھو ڈالا اور جہاں نظر نہ آیا وہاں پانی چھڑک دیا۔ فاروقِ اعظم (رض) کے اس عمل میں یہ احتمال ہے کہ ان کا مقصد یہ تھا کہ میں اس مقام پر پانی چھڑک لیتا ہوں جہاں کوئی نجاست کا اثر نظر تو نہیں آتا لیکن پہنچنے کا وہم ہے تاکہ یہ شک جو ہے منقطع ہوجائے اور دوبارہ لوٹانے کا وہم ہو تو وہ یہ سمجھیں کہ یہ پانی کی تری ہے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٨٢
حضرت عمر (رض) کے طرز عمل سے منی کا ناپاک ہونا تو بالکل ظاہر ہے اور دیگر حضرات کا نکیر نہ کرنا بھی تائید کی دلیل ہے البتہ نضح کا معاملہ تو وہ دفع وسوسہ کے لیے تھا تاکہ جہاں اثر جنابت یقینی معلوم ہو تو اس کو دھو لیا جائے اور جہاں اثر نہ ہو اور پھر وسوسہ اندازی کے خطرہ سے بچنے کے لیے وہاں پانی چھڑک دیا تاکہ معلوم ہو کہ یہ تو پانی کا اثر ہے پس اس سے ظاہر ہوا کہ وہ منی کو نجس سمجھتے تھے۔