۲۸۷۵ : وَحَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حُذَیْفَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ سُہَیْلٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (لَأَنْ یَجْلِسَ أَحَدُکُمْ عَلٰی جَمْرَۃٍ حَتّٰی تُحَرِّقَ ثِیَابَہٗ‘ وَتَخْلُصَ إِلٰی جِلْدِہٖ، خَیْرٌ لَہٗ مِنْ أَنْ یَجْلِسَ عَلٰی قَبْرٍ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ فَقَلَّدُوْہَا‘ وَکَرِہُوْا مِنْ أَجْلِہَا الْجُلُوْسَ عَلَی الْقُبُوْرِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : لَمْ یَنْہَ عَنْ ذٰلِکَ لِکَرَاہَۃِ الْجُلُوْسِ عَلَی الْقَبْرِ‘ وَلٰکِنَّہٗ أُرِیْدَ بِہِ الْجُلُوْسُ لِلْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ‘ وَذٰلِکَ جَائِزٌ فِی اللُّغَۃِ‘ یُقَالُ : جَلَسَ فُلَانٌ لِلْغَائِطِ‘ وَجَلَسَ فُلَانٌ لِلْبَوْلِ. وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٢٨٧٥: سہیل بن ابی صالح نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی انگارے پر بیٹھے یہاں تک کہ وہ اس کے کپڑوں کو جلا ڈالے اور اس کے چمڑے تک پہنچ جائے یہ قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ان آثار کو سامنے رکھ کر ان کی تقلید اختیار کی اور ان کی وجہ سے قبور پر بیٹھنے کو مکروہ قرار دیا۔ جب کہ دیگر علماء نے ان کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا۔ یہ بیٹھنا اس بناء پر ممنوع نہیں کہ قبر پر بیٹھنا ممنوع ہے۔ بلکہ بیٹھنے سے مراد پیشاب و پائخانہ کے لیے بیٹھنا مراد ہے۔
تخریج : مسلم فی الجنائز نمبر ٩٦‘ ابو داؤد فی الجنائز باب ٧٣‘ نمبر ٣٢٢٨‘ ابن ماجہ فی الجنائز نمبر ١٥٦٦۔
حاصل روایات : ان روایات سے قبور پر بیٹھنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اور یہ ممانعت عام ہے بلکہ اس پر وعید بھی موجود ہے پس قبر پر کسی طور پر بیٹھنا بھی ممنوع ہوگا۔