۲۸۸۴ :حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا مُرَجَّی بْنُ رَجَائٍ ‘ عَنْ أَبِیْ جَہْضَمٍ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ یُخْبِرُ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اخْتَصَّہُمْ أَنْ لَا یَأْکُلُوْا الصَّدَقَۃَ .فَلَیْسَ یَخْلُو الْحَدِیْثُ الْأَوَّلُ مِنْ أَنْ یَّکُوْنَ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ‘ فَیَکُوْنُ مَا أَبَاحَ لَہُمْ فِیْہٖ‘ غَیْرَ مَا حَرَّمَ عَلَیْہِمْ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ الثَّانِیْ‘ وَیَکُوْنُ مَعْنٰی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عَلٰی مَا ذَکَرْنَا .أَوْ یَکُوْنُ الْحَدِیْثُ الْأَوَّلُ یُبِیْحُ مَا مَنَعَ مِنْہُ ھٰذَا الْحَدِیْثُ الثَّانِیْ‘ فَیَکُوْنُ ھٰذَا الْحَدِیْثُ الثَّانِیْ نَاسِخًا لَہٗ‘ لِأَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ یُخْبِرُ فِیْہِ بَعْدَ مَوْتِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُمْ مَخْصُوْصُوْنَ بِہٖ دُوْنَ النَّاسِ‘ فَلاَ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ إِلَّا وَہُوَ قَائِمٌ فِیْ وَقْتِہِ ذٰلِکَ .فَإِنْ احْتَجَّ مُحْتَجٌّ فِیْ اِبَاحَۃِ الصَّدَقَۃِ عَلَیْہِمْ بِصَدَقَاتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَذَکَرَ مَا
٢٨٨٤ : مرجی بن رجاء نے ابوجہضم سے انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ یہ حضرت ابن عباس (رض) اس روایت میں خبر دے رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس بات کے ساتھ خاص کیا کہ وہ صدقہ نہ کھائیں۔ پس پہلی روایت اس سے خالی نہیں کہ اس کا معنیٰ وہ کیا جائے جو ہم نے فصل اول میں بیان کیا تو اس صورت میں جس چیز کو ان کے لیے مباح کیا ہے وہ اس کے علاوہ ہے جو ان کے لیے اس دوسری روایت ذکر کی گئی اور ہر روایت کا مفہوم اپنے اپنے مقام پر درست رہا۔ یا پھر اس طرح کہا جائے کہ اول روایت میں اس صدقے کو مباح قرار دیا جب کہ اس دوسری روایت سے روک دیا پس اس صورت میں یہ ناسخ ہوگی کیونکہ ابن عباس (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وفات کے بعد بتلا رہے ہیں کہ ہم بنی ہاشم کے لیے دوسروں کو چھوڑ کر یہ چیز خاص کی گئی اور یہ اسی صورت میں تسلیم کیا جاسکتا ہے جب کہ یہ ان کے زمانہ میں قائم و موجود ہو اگر کوئی معترض صدقہ کے مباح ہونے کے لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدقات کو دلیل بناتے اور ان روایات کو پیش کرے۔
حاصل روایات : یہ روایات تو صدقے کو حرام قرار دے رہی ہیں اور پہلی روایت انہی ابن عباس (رض) کی صدقے کو حلال قرار کیسے دے سکتی ہے کہ ایک آدمی دو متضاد باتیں کہہ رہا ہے ان دونوں کی مطابقت کی صورت وہی ہے جو گزشتہ سطور میں مذکور ہوئی کہ وہاں صدقہ سے تبرعات مراد لیے جائیں۔
اب دونوں روایات اپنے اپنے مقامات پر درست رہیں۔ یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ حدیث اول میں جس چیز کو مباح قرار دیا گیا دوسری روایت میں اس کو حرام کہا گیا تو پہلا حکم منسوخ ہوگیا اور اس کے لیے قرینہ یہ ہے کہ یہ فتویٰ ابن عباس (رض) آپ کی وفات کے بعد کا ہے اور وہ تبھی خبر دے رہے ہیں جبکہ وہ اس بات پر قائم ہیں۔
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فدک وغیرہ کے خمس کو بنی ہاشم پر صدقہ فرمایا اس سے کسی کو انکار نہیں جیسا ان روایات میں وارد ہے۔