۲۹۳۳ : فَمِنْ ذٰلِکَ مَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّہْرَانِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ أَبِیْ حَمْزَۃَ‘ (عَنْ ہِلَالِ بْنِ حُصَیْنٍ‘ قَالَ : نَزَلْتُ دَارَ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ بِالْمَدِیْنَۃِ‘ فَضَمَّنِیْ وَإِیَّاہُ الْمَجْلِسُ‘ فَقَالَ : أَصْبَحُوْا ذَاتَ یَوْمٍ وَقَدْ عَصَبُوْا عَلٰی بَطْنِہِ حَجَرًا مِنَ الْجُوْعِ .فَقَالَتْ لَہٗ امْرَأَتُہُ أَوْ أُمُّہُ : لَوْ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُہٗ، فَقَدْ أَتَاہٗ فُلَانٌ فَسَأَلَہٗ فَأَعْطَاہٗ، وَأَتَاہٗ فُلَانٌ فَسَأَلَہٗ فَأَعْطَاہٗ .فَقُلْتُ : لَا وَاَللّٰہِ‘ حَتّٰی أَطْلُبَ‘ فَطَلَبْتُ، فَلَمْ أَجِدْ شَیْئًا‘ فَاسْتَبَقْتُ إِلَیْہِ وَہُوَ یَخْطُبُ وَہُوَ یَقُوْلُ : مَنِ اسْتَغْنٰی أَغْنَاہُ اللّٰہُ‘ وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّہُ اللّٰہُ‘ وَمَنْ سَأَلَنَا إِمَّا أَنْ نَبْذُلَ لَہٗ وَإِمَّا أَنْ نُوَاسِیَہٗ‘ وَمَنِ اسْتَعَفَّ عَنَّا وَاسْتَغْنٰی أَحَبُّ إِلَیْنَا مِمَّنْ سَأَلَنَا .قَالَ : فَرَجَعْتُ، فَمَا سَأَلْتُ أَحَدًا بَعْدُ‘ فَمَا زَالَ اللّٰہُ یَرْزُقُنَا حَتّٰی مَا أَعْلَمُ بَیْتًا فِی الْمَدِیْنَۃِ أَکْبَرَ سُؤَالًا مِنَّا) .
٢٩٣٣: ہلال بن حسین کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری (رح) کے ہاں مدینہ میں گیا میں ان کی مجلس میں بیٹھا تھا تو کہنے لگے کہ گھر والوں نے ایک صبح کو اس حالت میں پایا کہ ابو سعید نے پیٹ پر بھوک سے پتھر باندھ رکھے تھے اس پر ان کی بیوی یا والدہ نے کہا اگر تم جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جاتے تو مناسب تھا آپ کے ہاں فلاں شخص گیا آپ نے اس کو دے دیا اور فلاں شخص نے سوال کیا آپ نے اسے دے دیا میں نے ان سے کہا اللہ کی قسم ! میں پہلے تلاش کروں گا اگر نہ ملی تو پھر جاؤں گا میں نے کھانے کی چیز تلاش کی مجھے کوئی چیز نہ ملی میں آپ کی خدمت میں پہنچا اس وقت آپ خطبہ میں یہ ارشاد فرما رہے تھے جو شخص اللہ تعالیٰ سے غنا طلب کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو غنی کردیتا ہے اور جو سوال سے بچتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو سوال سے بچاتا ہے جو شخص ہم سے مانگے گا ہم یا تو اس کو دے دیں گے یا اس سے ہمدردی کا اظہار کریں گے (اگر نہ ہوگا) جو ہم سے سوال کرنے سے بچے گا اور غناء اختیار کرے گا وہ ہمیں ان کی بنسبت زیادہ پسند ہے جو ہم سے سوال کریں گے ابو سعید کہنے لگے میں یہ سن کر واپس لوٹا اس کے بعد میں نے کسی سے نہ مانگا اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت سے رزق عنایت فرما رہے ہیں یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں میرے علم کے مطابق کوئی گھر ایسا نہیں جہاں اس قدر کثرت سے سوال کرنے والے آتے ہوں جتنے ہمارے ہاں آتے ہیں۔
تخریج : بخاری فی الرقاق باب ٢٠‘ الزکوۃ باب ١٨‘ ٥‘ مسلم فی الزکوۃ نمبر ١٢٤‘ ابو داؤد فی الزکوۃ باب ٢٨‘ ترمذی فی البر باب ٧٦‘ دارمی فی الزکوۃ باب ١٨‘ موطا مالک فی الصلاۃ ٧‘ مسند احمد ٣؍١٢‘ ٤٤‘ ٤٧‘ ٩٣‘ ٤٣٤۔