۲۹۳۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ‘ قَالَ ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ‘ عَنْ قَتَادَۃَ‘ عَنْ ہِلَالِ بْنِ مُرَّۃَ‘ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ‘ قَالَ : أَعْوَزْنَا مَرَّۃً‘ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ‘ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّہُ اللّٰہُ‘ وَمَنِ اسْتَغْنٰی أَغْنَاہُ اللّٰہُ‘ وَمَنْ سَأَلَنَا أَعْطَیْنَاہُ .قَالَ : قُلْتُ فَلأََسْتَعِفَّ فَیُعِفَّنِی اللّٰہُ وَلْأَسْتَغْنِ فَیُغْنِیَنِی اللّٰہُ .قَالَ : فَوَاللّٰہِ مَا کَانَ إِلَّا أَیَّامٌ حَتّٰی إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَسَمَ زَبِیْبًا فَأَرْسَلَ إِلَیْنَا مِنْہُ‘ ثُمَّ قَسَمَ شَعِیْرًا‘ فَأَرْسَلَ إِلَیْنَا مِنْہُ ثُمَّ سَالَتْ عَلَیْنَا الدُّنْیَا‘ فَغَرَّقَتْنَا إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللّٰہُ) .
٢٩٣٤: حلال بن مرہ نے ابو سعید خدری (رض) سے نقل کیا کہ ایک مرتبہ ہمیں شدید محتاجی نے آلیا تو میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور میں نے اس کا تذکرہ کیا تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو سوال سے بچے گا اللہ تعالیٰ اس کو سوال سے محفوظ کردیں گے اور جو غناء اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو غنی بنادیں گے اور جو ہم سے سوال کرے گا ہم اسے دے دیں گے ابو سعید کہتے ہیں میں نے سوال سے دامن کو بچا لیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے سوال سے محفوظ رکھا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے غنا مانگا اس نے مجھے غناء عنایت فرما دیا ابو سعید کہتے ہیں ابھی چند دن گزرے تھے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کشمش تقسیم فرمائی تو اس میں سے کچھ ہمارے ہاں بھیجی پھر جو تقسیم کئے اس میں سے کچھ ہماری طرف بھیجے پھر تو ہم پر دنیا بہہ پڑی اور اس نے ہمیں ڈبو دیا مگر وہ بچا جس کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔