۲۹۳۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ‘ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ‘ قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ‘ عَنْ قَتَادَۃَ‘ عَنْ ہِلَالِ بْنِ حُصَیْنٍ أَخِیْ بَنِیْ مُرَّۃَ بْنِ عَبَّادٍ‘ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .قَالَ ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ ھٰذَا ہُوَ الصَّحِیْحُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ (مَنْ سَأَلَنَا أَعْطَیْنَاہٗ) وَیُخَاطِبُ بِذٰلِکَ أَصْحَابَہٗ، وَأَکْثَرُہُمْ صَحِیْحٌ لَا زَمَانَۃَ بِہٖ إِلَّا أَنَّہٗ فَقِیْرٌ‘ فَلَمْ یَمْنَعْہُمْ مِنْہَا لِصِحَّتِہِمْ‘ فَقَدْ دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا وَفَضَّلَ مَنِ اسْتَعَفَّ وَلَمْ یَسْأَلْ‘ عَلٰی مَنْ سَأَلَ‘ فَلَمْ یَسْأَلْہُ أَبُوْ سَعِیْدٍ لِذٰلِکَ‘ وَلَوْ سَأَلَہُ لَأَعْطَاہُ‘ اِذْ قَدْ کَانَ بَذَلَ ذٰلِکَ لَہٗ‘ وَلِأَمْثَالِہِ مِنْ أَصْحَابِہٖ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا مِنْ غَیْرِ ھٰذَا الْوَجْہِ‘ مَا یَدُلُّ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا .
٢٩٣٥: ہلال بن حصین جو بنی مرہ بن عباد کے بھائی ہیں انھوں نے ابو سعید خدری (رض) اور انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ابن ابی داؤد نے اس کی تصحیح کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں ‘ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کرام (رض) کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ جو شخص ہم سے مانگے گا ہم اسے دیں گے ۔ اگثر صحابہ کرام تندرست و توانا اور صحت مند تھے ۔ معذور و اپاہج نہ تھے۔ وہ تنگ دست تھے تو ان کی صحت مندی کی وجہ سے آپ نے ان سے صدقہ کو روکا اور نہ حرام قرار دیا۔ تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی جو ہم نے اوپر ذکر کی آپ نے سوال نہ کرنے کو افضل قرار دیا مگر سوال کرنے والے سے نہیں پوچھا ۔ حضرت ابو سعید (رض) نے سوال سے بچتے ہوئے سوال نہیں کیا اگر وہ سوال کرتے تو آپ ان کو ضرور عنایت فرماتے اللہ تعالیٰ نے اس کا بدل ان کو عنایت کردیا اور اسی طرح اور بھی ان کے ساتھی تھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس کے علاوہ سند سے روایت وارد ہے جو ہماری اس بات پر دلالت کرتی ہے۔
حاصل روایات : ان روایات میں جہاں غنا اختیار کرنے اور سوال سے بچنے کی خوبی بیان کی گئی ہے وہاں دوسری طرف یہ اشارہ بھی مل رہا ہے کہ ہم سے سوال کرے گا ہم اس کو دے دیں گے صحابہ کرام کی اکثریت صحت مند تھی کئی حضرات ان میں فقیر و محتاج تھے تو ان کی صحت و تندرستی یہ فقر کے ہوتے ہوئے استحقاق صدقہ سے مانع نہ تھی ابوسعید (رض) کا کمال استغناء ثابت ہو رہا ہے سوال نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے غنی کردیا اگر سوال کرتے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرور عنایت فرما دیتے پس ثابت ہوا کہ فقیر و غریب جو تندرست و قوی ہو اس کو تندرست و قوی کو صدقہ لینا دینا جائز ہے۔