hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2942

.

الطحاوي

2942
Al Tahawi
۲۹۴۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ‘ عَنْ عَبْدِ الْمَلِک بْنِ عُمَیْرٍ‘ عَنْ زَیْدِ بْنِ عُقْبَۃَ‘ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدَبٍ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَقَدْ أَبَاحَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ الْمَسْأَلَۃَ فِیْ کُلِّ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنَ الْمَسْأَلَۃِ فِیْہِ‘ فَدَخَلَ فِیْ ذٰلِکَ مَا أُبِیْحَتْ فِیْہِ الْمَسْأَلَۃُ فِیْ حَدِیْثِ قَبِیْصَۃَ‘ وَزَادَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ عَلَیْہِ‘ مَا سِوٰی ذٰلِکَ مِنَ الْأُمُوْرِ الَّتِیْ لَا بُدَّ مِنْہَا‘ وَفِیْ ذٰلِکَ اِبَاحَۃُ الْمَسْأَلَۃِ بِالْحَاجَۃِ خَاصَّۃً‘ لَا بِالزَّمَانَۃِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَنَسٍ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ھٰذَا الْمَعْنٰی۔
٢٩٤٢: زید بن عقبہ نے سمرہ بن جندب (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ اس روایت میں ہر ایسے کام کے سلسلہ میں سوال کو درست قرار دیا جہاں سوال لازم ہو ۔ اس میں وہ بات بھی شامل ہے جس میں حضرت قبیصہ (رض) کی روایت میں مانگنا مباح قرار دیا گیا ۔ اس روایت میں کچھ اضافہ ہے جو کہ نہایت ضروری ہیں ان میں خاص طور پر ضرورت کے پیش نظر مانگنا ہے۔ اپاہج ہونا نہیں اور حضرت انس (رض) نے بھی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح کی روایت نقل کی ہے۔
حاصل روایات : اس روایت نے ہر ایسے موقع کے لیے سوال کو جائز کردیا جس کے بغیر چارہ نہ ہو ان میں جہاں وہ لوگ شامل ہیں جو سابقہ روایت قبیصہ (رض) میں موجود ہیں اور اس میں ایک اور کا اضافہ فرمایا کہ ایسا کام کہ جس میں کام کہ جن میں سوال کے علاوہ چارہ کار نہ ہو اس سے یہ صاف معلوم ہوا کہ سوال کا مباح ہونا ضرورت خاصہ فقر وغیرہ کی بنیاد پر ہے اس کا دارومدار اپاہج پن اور بیمار ہونا نہیں۔