۲۹۴۸ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ غَسَّانَ‘ قَالَ : ثَنَا إِسْرَائِیْلُ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَھٰذَا حُبْشِیٌّ قَدْ حَکٰی ھٰذَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فَوَافَقَ مَا حَکَی مِنْ ذٰلِکَ‘ مَا حَکَاہُ الْآخَرُوْنَ‘ مِنْ أَنَّ الْمَسْأَلَۃَ إِنَّمَا تَحِلُّ بِالْفَقْرِ .وَقَدْ جَائَ تِ الْآثَارُ أَیْضًا‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ مُتَوَاتِرَۃً .
٢٩٤٨ : ابو غسان نے اسرائیل سے روایت کی پھر اپنی اسناد سے اسی طرح بیان کی۔ تو یہ حبشی (رض) ہیں جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کر رہے ہیں کہ فقر کے بغیر مانگنے والا شعلے کھانے والا ہے تو یہ ارشاد دوسرے قول والوں کی بات کے موافق ہے کہ فقر سے سوال درست ہوجاتا ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کثیر روایات وارد ہیں چند ملاحظہ ہوں۔